سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ باب: بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ ، قَالَ : غَزَوْنَا غَزْوَةً لَنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا بِغُلَامٍ ، ثُمَّ أَقَامَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَا مِنَ الْغَدِ حَضَرَ الرَّحِيلُ ، فَقَامَ إِلَى فَرَسِهِ يُسْرِجُهُ ، فَنَدِمَ فَأَتَى الرَّجُلَ وَأَخَذَهُ بِالْبَيْعِ ، فَأَبَى الرَّجُلُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيَا أَبَا بَرْزَةَ فِي نَاحِيَةِ الْعَسْكَرِ ، فَقَالَا : لَهُ هَذِهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " ، قَالَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ : حَدَّثَ جَمِيلٌ ، أَنَّهُ قَالَ : مَا أَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا .
´ابوالوضی کہتے ہیں` ہم نے ایک جنگ لڑی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا ، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے ، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا ، تو وہ ( بیچنے والا ) اٹھا اور ( اپنے ) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی ( زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارادہ کر لیا ) وہ مشتری کے پاس آیا اور اسے بیع کو فسخ کرنے کے لیے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کر دیا ، پھر اس نے کہا : میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوبرزہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں ( وہ جو فیصلہ کر دیں ہم مان لیں گے ) وہ دونوں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اس وقت ابوبرزہ لشکر کے ایک جانب ( پڑاؤ ) میں تھے ، ان دونوں نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے ان دونوں سے کہا : کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کر دوں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” دونوں خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک بیع فسخ کر دینے کا اختیار ہے ، جب تک کہ وہ دونوں ( ایک مجلس سے ) جدا ہو کر ادھر ادھر نہ ہو جائیں “ ۔ ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ جمیل نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : میں سمجھتا ہوں کہ تم دونوں جدا نہیں ہوئے ہو ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوالوضی کہتے ہیں ہم نے ایک جنگ لڑی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا، تو وہ (بیچنے والا) اٹھا اور (اپنے) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی (زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارادہ کر لیا) وہ مشتری کے پاس آیا اور اسے بیع کو فسخ کرنے کے لیے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کر دیا، پھر اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوبرزہ رضی اللہ عنہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3457]
فائدہ۔
حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں معاملہ کرنے والوں کی دن رات کی طویل مجلس کو ایک ہی مجلس قرار دیا اور بیع فسخ کرادی۔
حالانکہ اس دوران میں ان دونوں نے سودے کے بعد بے شمار دوسرے لوازمات پر بات چیت کی ہوگی۔
لیکن حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کے ایک ہی جگہ رہنے کو ایک مجلس قرار دیا۔