حدیث نمبر: 3455
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ قَالَ ، أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : اخْتَرْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے` اس میں یوں ہے : ” یا ان میں سے کوئی اپنے ساتھی سے کہے «اختر» یعنی لینا ہے تو لے لو ، یا دینا ہے تو دے دو ( پھر وہ کہے : لے لیا ، یا کہے دے دیا ، تو جدا ہونے سے پہلے ہی اختیار جاتا رہے گا ) “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3455
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2109) صحيح مسلم (1531)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ البیوع 43 (2109)، صحیح مسلم/ البیوع 10 (1531)، (تحفة الأشراف: 7512)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/4، 73) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے: یا ان میں سے کوئی اپنے ساتھی سے کہے «اختر» یعنی لینا ہے تو لے لو، یا دینا ہے تو دے دو (پھر وہ کہے: لے لیا، یا کہے دے دیا، تو جدا ہونے سے پہلے ہی اختیار جاتا رہے گا)۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3455]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
سودا کرتے ہوئے دوکاندار یا خریدار یوں کہہ دے کہ ابھی دیکھ لو پسند کرلو۔
اور دوسرے نے اسے پسند کرلیا تو سودا ہوجائےگا۔
اور منسوخ کرنے کا حق نہ رہے گا۔
خواہ ان کی مجلس کتنی ہی طویل کیوں نہ ہوجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3455 سے ماخوذ ہے۔