حدیث نمبر: 3453
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : كَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ هَذَا التَّفْسِيرَ لَيْسَ مِنَّا ، لَيْسَ مِثْلَنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یحییٰ کہتے ہیں` سفیان «ليس منا» کی تفسیر «ليس مثلنا» ( ہماری طرح نہیں ہے ) سے کرنا ناپسند کرتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ ڈرانے و دھمکانے کا موقع ہے جس میں تغلیظ و تشدید مطلوب ہے، اور اس تفسیر میں یہ بات نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3453
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18769) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خرید و فروخت میں فریب اور دھوکہ دھڑی منع ہے۔`
یحییٰ کہتے ہیں سفیان «ليس منا» کی تفسیر «ليس مثلنا» (ہماری طرح نہیں ہے) سے کرنا ناپسند کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3453]
فوائد ومسائل:
فائدہ [لیس منا] کامعنی ہم میں سے نہیں۔
اور[لیس مثلنا] کے معنی ہیں۔
ہماری مثل اورہمارے جیسا نہیں۔
اور امام سفیان رحمہ اللہ کے قول کا مفہوم یہ ہے کہ غلط کام سے ڈرانے اور روکنے کےلیے شدت اور سختی ہی مفید ہوتی ہے، اس لیے آپ ﷺکےالفاظ کی نرم نرم تعبیر ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔
ان الفاظ کو ایسے ہی بیان کرنا چاہیے جیسے کہےگئے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3453 سے ماخوذ ہے۔