سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْحُكْرَةِ باب: ذخیرہ اندوزی منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَيَّاضِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي التَّمْرِ حُكْرَةٌ " ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : قَالَ : عَنِ الْحَسَنِ فَقُلْنَا لَهُ : لَا تَقُلْ عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَنَا بَاطِلٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، يَحْتَكِرُ النَّوَى وَالْخَبَطَ وَالْبِزْرَ . و أَحْمَدَ بْنَ يُونُسَ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ سُفْيَان ، عَنْ كَبْس الْقَتِّ ، فَقَالَ : كَانُوا يَكْرَهُونَ الْحُكْرَةَ ، وَسَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ ، فَقَالَ : اكْبِسْهُ .
´قتادہ کہتے ہیں` کھجور میں احتکار ( ذخیرہ اندودزی ) نہیں ہے ۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا : «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے ( کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے ۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی ، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے ۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان ( ابن سعید ثوری ) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : لوگ احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کو ناپسند کرتے تھے ۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا : روک لو ( کوئی حرج نہیں ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار (ذخیرہ اندودزی) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے (کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان (ابن سعید ثوری) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار (ذخیرہ اندوزی) کو ناپسند کرتے تھے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3448]
فائدہ۔
ان تمام آثار کے ذکر سے امام ابودائود واضح کرنا چاہتے ہیں۔
کہ انہیں اشیاء کی ذخیرہ اندوزی ممنوع ہے۔
جن کا تعلق انسانوں یا جانوروں کی بنیادی غذا سے ہے۔