حدیث نمبر: 3448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَيَّاضِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي التَّمْرِ حُكْرَةٌ " ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : قَالَ : عَنِ الْحَسَنِ فَقُلْنَا لَهُ : لَا تَقُلْ عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَنَا بَاطِلٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، يَحْتَكِرُ النَّوَى وَالْخَبَطَ وَالْبِزْرَ . و أَحْمَدَ بْنَ يُونُسَ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ سُفْيَان ، عَنْ كَبْس الْقَتِّ ، فَقَالَ : كَانُوا يَكْرَهُونَ الْحُكْرَةَ ، وَسَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ ، فَقَالَ : اكْبِسْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قتادہ کہتے ہیں` کھجور میں احتکار ( ذخیرہ اندودزی ) نہیں ہے ۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا : «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے ( کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے ۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی ، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے ۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان ( ابن سعید ثوری ) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : لوگ احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کو ناپسند کرتے تھے ۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا : روک لو ( کوئی حرج نہیں ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3448
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يحيي بن فياض :لين الحديث (تق : 7624), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 123
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18765) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ذخیرہ اندوزی منع ہے۔`
قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار (ذخیرہ اندودزی) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے (کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان (ابن سعید ثوری) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار (ذخیرہ اندوزی) کو ناپسند کرتے تھے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3448]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
ان تمام آثار کے ذکر سے امام ابودائود واضح کرنا چاہتے ہیں۔
کہ انہیں اشیاء کی ذخیرہ اندوزی ممنوع ہے۔
جن کا تعلق انسانوں یا جانوروں کی بنیادی غذا سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3448 سے ماخوذ ہے۔