سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَكَرِهَهَا باب: کوئی شخص ایسا جانور خریدے جس کے تھن میں کئی دن کا دودھ اکٹھا کیا گیا ہو اور بعد میں اس دھوکہ کا علم ہونے پر اس کو یہ بیع ناپسند ہو تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3446
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَ أَوْ مِثْلَيْ لَبَنِهَا قَمْحًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی تھن میں دودھ جمع کی ہوئی ( مادہ ) خریدے تو تین دن تک اسے اختیار ہے ( چاہے تو رکھ لے تو کوئی بات نہیں ) اور اگر واپس کرتا ہے ، تو اس کے ساتھ اس کے دودھ کے برابر یا اس دودھ کے دو گنا گیہوں بھی دے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کوئی شخص ایسا جانور خریدے جس کے تھن میں کئی دن کا دودھ اکٹھا کیا گیا ہو اور بعد میں اس دھوکہ کا علم ہونے پر اس کو یہ بیع ناپسند ہو تو کیا کرے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی تھن میں دودھ جمع کی ہوئی (مادہ) خریدے تو تین دن تک اسے اختیار ہے (چاہے تو رکھ لے تو کوئی بات نہیں) اور اگر واپس کرتا ہے، تو اس کے ساتھ اس کے دودھ کے برابر یا اس دودھ کے دو گنا گیہوں بھی دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3446]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی تھن میں دودھ جمع کی ہوئی (مادہ) خریدے تو تین دن تک اسے اختیار ہے (چاہے تو رکھ لے تو کوئی بات نہیں) اور اگر واپس کرتا ہے، تو اس کے ساتھ اس کے دودھ کے برابر یا اس دودھ کے دو گنا گیہوں بھی دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3446]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
صحیح مسئلہ وہی ہے۔
جو اس سے پہلے حدیث میں بیان ہوا۔
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
صحیح مسئلہ وہی ہے۔
جو اس سے پہلے حدیث میں بیان ہوا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3446 سے ماخوذ ہے۔