سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِي النَّهْىِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ باب: شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے۔
حدیث نمبر: 3441
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَدِمَ بِحَلُوبَةٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى السُّوقِ فَانْظُرْ مَنْ يُبَايِعُكَ ، فَشَاوِرْنِي حَتَّى آمُرَكَ أَوْ أَنْهَاكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے ان سے بیان کیا کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا ، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا ، اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا ، تو انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے ( اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا ) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے۔`
سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے (اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3441]
سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے (اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3441]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم اس میں شبہ نہیں کہ خیر القرون میں مسلمان اتباع رسول اوراپنے مسلمان بھایئوں کے ساتھ خیر خواہی میں بہت ہی اونچے درجے پر تھے۔
اس واقعے میں نبی کریمﷺ کے فرمان کی رعایت ملحوظ رکھے ہوئے دوسرے مسلمان کی خیر خواہی کا بھی پورا اہتمام ہے۔
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم اس میں شبہ نہیں کہ خیر القرون میں مسلمان اتباع رسول اوراپنے مسلمان بھایئوں کے ساتھ خیر خواہی میں بہت ہی اونچے درجے پر تھے۔
اس واقعے میں نبی کریمﷺ کے فرمان کی رعایت ملحوظ رکھے ہوئے دوسرے مسلمان کی خیر خواہی کا بھی پورا اہتمام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3441 سے ماخوذ ہے۔