حدیث نمبر: 3438
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنَاجَشُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نجش نہ کرو ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: نجش یہ ہے کہ بیچی جانے والی چیز کی تعریف کر کے بائع کی موافقت کی جائے، یا خریداری کا ارادہ نہ ہو لیکن دوسرے کو پھنسانے کے لئے بیچنے والے کے سامان کی قیمت بڑھا دی جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3438
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2140) صحيح مسلم (1413),
تخریج حدیث « صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، والبیوع 4 (1520)، سنن الترمذی/البیوع 65 (1304)، سنن النسائی/البیوع 12 (4492)، سنن ابن ماجہ/التجارات (2174)، (تحفة الأشراف: 13123)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 45 (96)، مسند احمد (4/338، 354، 394، 402، 410) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1304 | سنن ابن ماجه: 2174

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نجش یعنی دوسرے خریداروں کو دھوکہ دینے کے لیے دام بڑھانا منع ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نجش نہ کرو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3438]
فوائد ومسائل:

(نجش) کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص بظاہر خریدار بن کرمعاملہ کرنے والوں کے درمیان قیمت زیادہ دینے کی پیش کش کردے۔
حالانکہ وہ حقیقی خریدار نہ ہو۔
اور حقیقی خریدار اس دھوکے میں آکر کہ لوگ زیادہ دے رہے ہیں۔
زیادہ قیمت کے عوض خریدنے پر آمادہ ہوجائے۔
بعض اوقات اس قسم کے لوگ خود دوکانداروں کی طرف سے بازار میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔
یہ عمل اسلامی امانت اور دیانت کے خلاف ہے۔
منڈی کے عوامل کی آزادی میں رکاوٹ ہے اور دھوکا ہے۔
اس لئے حرام ہے۔


البتہ نیلا عام (بیع من یزید) میں حقیقی خریدار ایک دوسرے سے بڑھ کربولی دیں تو یہ جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3438 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2174 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بیع نجش کی ممانعت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں بیع نجش نہ کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2174]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  بولی بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مال خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتا، وہ بولی میں حصہ لے اور جتنی قیمت پہلے پیش کی جا چکی ہے، اس سے زیادہ پیش کرے تاکہ ضرورت مند خریدار ا سے زیادہ قیمت دینے پر امادہ ہو جائے۔

(2)
  یہ عمل اس لیے منع ہے کہ اس میں دھوکا ہے اور خریدار کا نقصان ہے۔

(3)
  بولی دے کر چیز بیچنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2174 سے ماخوذ ہے۔