حدیث نمبر: 3435
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاعَ عَبْدًا ، وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ ، لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو مال بیچنے والے کو ملے گا ، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے ( کہ مال میں لوں گا تو پھر خریدار ہی پائے گا ) “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (3433) فھو شاھد له
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3171)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو مال بیچنے والے کو ملے گا، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے (کہ مال میں لوں گا تو پھر خریدار ہی پائے گا)۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3435]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یعنی بیچتے ہوئے اصل بکنے والی چیز کے ساتھ کچھ اور وابستہ ہے۔
تو وہ از خود خریدار کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔
ایسے زوائد پہلے مالک کے ہیں۔
ہاں اگر بیع کے دوران میں یہ طے ہوجائے کہ اصل چیز مع زوائد بیچی جارہی ہے تو پھر یہ خریدار کی ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3435 سے ماخوذ ہے۔