حدیث نمبر: 3427
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ۱؎ ؟ ۔

وضاحت:
۱؎: جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ لونڈی نے کہاں سے کمایا ہے، حلال طریقے سے یا حرام اس کی کمائی لینا صحیح نہیں ہے، علماء کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے اس واسطے منع کیا ہے کہ لوگ ان پر محصول مقرر کرتے تھے، اور وہ جہاں سے بھی ہوتا اسے لا کر اپنے مالک کو دیتی، اگر کام نہ پاتیں تو زنا کی کمائی سے لا کر دیتیں اس واسطے ان کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایا جب تک کہ اس بات کی تحقیق نہ ہو جائے کہ اس کی کمائی حلال طریقے سے ہے، بعض لوگوں کے نزدیک کمائی سے مراد زنا کاری کی کمائی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3427
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن, وللحديث شواھد انظر الحديث السابق (3426),
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3587)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/141) (حسن) بما قبلہ »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے۔`
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ۱؎؟۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3427]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
مالک کو علم ہونا چاہیے کہ کے اس کے کارندے یا بچے کہاں سے کہاں سے کس کس طرح سے کمائی کرکے لاتے ہیں۔
تاکہ حلال وطیب کا یقین ہو اور مشکوک اور حرام سے بچا اور بچایا جاسکے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3427 سے ماخوذ ہے۔