حدیث نمبر: 3425
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوحازم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی لینے سے منع فرمایا ہے ۔  

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2283)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الإجارة20 (2283)، الطلاق 51 (5348)، (تحفة الأشراف: 13427)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/287، 347، 382، 437، 454، 480)، سنن الدارمی/البیوع 77 (2662) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2283 | صحيح البخاري: 5348

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے۔`
ابوحازم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی لینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3425]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یعنی لونڈی جب بدکاری یا گانے بجانے سے مال کماتی ہو تو سراسرحرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3425 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5348 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5348. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5348]
حدیث حاشیہ: حافظ نے کہا اگر عمداً کوئی محرم عورت مثلاً ماں بہن بیٹی وغیرہ سے حرام جان کر بھی نکاح کر لے تو اس پر حد قائم کی جائے گی۔
ائمہ ثلاثہ اور اہلحدیث کا یہی فتویٰ ہے۔
اس کا یہ جرم اتنا سنگین ہے کہ اسے ختم کر دینا ہی عین انصاف ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5348 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5348 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5348. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5348]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان اور پیش کردہ احادیث میں نکاح فاسد کے حق مہر اور زنا کی اجرت کے متعلق وضاحت کی ہے۔
جو اجرت زنا کے عوض دی جاتی ہے اسے مهر البغي کہا جاتا ہے۔
یہ حرام ہے اور اس کی حرمت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں کیونکہ زنا حرام ہے، اس لیے اس کا معاوضہ بھی ناجائز اور حرام ہے۔
اسی طرح گلوکارہ اور نوحہ کرنے والی کی اجرت بھی حرام ہے۔
لیکن نکاح فاسد میں عورت کو اس کا طے شدہ حق مہر دے دیا جاتا ہے اور اس کے فوراً بعد ان میں جدائی کر دی جائے۔
(2)
نکاح فاسد وہ ہے جو گواہوں یا سرپرست کی اجازت کے بغیر کیا جائے۔
اسی طرح دوران عدت میں نکاح کرنا یا وقتی طور پر کسی سے نکاح کرنا بھی نکاح فاسد ہوتا ہے، ایسے نکاح میں عورت کو طے شدہ حق مہر مل جاتا ہے، اس کے علاوہ، وہ کسی چیز کی حق دار نہیں ہے۔
(3)
کسب اماء سے مراد لونڈیوں سے بدکاری کرانا اور ان کا معاوضہ لینا ہے۔
یہ معاوضہ بھی حرام ہے اور بدکار عورت کی کمائی میں شامل ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5348 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2283 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2283. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے لونڈیوں کی(بدکاری کی) کمائی سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2283]
حدیث حاشیہ: آیت قرآنی اور ہر دو احادیث سے حضر ت امام بخاری ؒ نے ثابت فرمایا کہ رنڈی کی کمائی اور لونڈی کی کمائی حرام ہے۔
عہد جاہلیت میں لوگ اپنی لونڈیوں سے حرام کمائی حاصل کرتے اور ان سے بالجبر پیشہ کراتے تھے۔
اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ اسے روکا اور ایسی کمائی کو لقمہ حرام قرار دیا۔
اسی طرح کہانت کا پیشہ بھی حرام قرار پایا نیز کتے کی قیمت سے بھی منع کیا گیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2283 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2283 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2283. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے لونڈیوں کی(بدکاری کی) کمائی سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2283]
حدیث حاشیہ:
لونڈیوں کی اجرت سے مراد زنا کرکے اجرت حاصل کرنا۔
یہ حرام ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں،البتہ ان کے ہاتھ کی ہنر مندی اور اس کی آمدنی جائز ہے۔
(2)
بہر حال قرآنی آیت اور مذکورہ ہر دو احادیث سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ رنڈی کی کمائی اور لونڈی کا پیشے کے ذریعے سے کمائی کرنا حرام ہے۔
دور جاہلیت میں کچھ لوگ اپنی لونڈیوں سے پیشہ کرانے کے بعد حرام کمائی کھاتے تھے، اسلام نے سختی کے ساتھ جسم فروشی سے منع کردیا اور ایسی کمائی کو لقمۂ حرام قرار دیا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2283 سے ماخوذ ہے۔