سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 342
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْغُسْلُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : إِذَا اغْتَسَلَ الرَّجُلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَجْزَأَهُ مِنْ غُسْلِ الْجُمُعَةِ ، وَإِنْ أَجْنَبَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بالغ پر جمعہ کی حاضری اور جمعہ کے لیے ہر آنے والے پر غسل ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب آدمی طلوع فجر کے بعد غسل کر لے تو یہ غسل جمعہ کے لیے کافی ہے اگرچہ وہ جنبی رہا ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بالغ پر جمعہ کی حاضری اور جمعہ کے لیے ہر آنے والے پر غسل ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: جب آدمی طلوع فجر کے بعد غسل کر لے تو یہ غسل جمعہ کے لیے کافی ہے اگرچہ وہ جنبی رہا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 342]
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بالغ پر جمعہ کی حاضری اور جمعہ کے لیے ہر آنے والے پر غسل ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: جب آدمی طلوع فجر کے بعد غسل کر لے تو یہ غسل جمعہ کے لیے کافی ہے اگرچہ وہ جنبی رہا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 342]
342۔ اردو حاشیہ:
ہر بالغ کے لیے جمعہ واجب ہے بشرطیکہ معذور نہ ہو اور بتصریح حدیث نبوی بچہ، عورت، غلام اور مسافر مستثنیٰ ہیں۔ مسافر کے لیے بھی یہ ہے کہ وہ اپنے سفر میں رواں ہو، اور اگر کسی منزل پر ٹھہرا ہوا ہو اور قریب میں جمعہ بھی ہو رہا ہو اور کوئی معقول عذر شرعی بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں جمعہ میں حاضر ی ضروری ہے۔
ہر بالغ کے لیے جمعہ واجب ہے بشرطیکہ معذور نہ ہو اور بتصریح حدیث نبوی بچہ، عورت، غلام اور مسافر مستثنیٰ ہیں۔ مسافر کے لیے بھی یہ ہے کہ وہ اپنے سفر میں رواں ہو، اور اگر کسی منزل پر ٹھہرا ہوا ہو اور قریب میں جمعہ بھی ہو رہا ہو اور کوئی معقول عذر شرعی بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں جمعہ میں حاضر ی ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 342 سے ماخوذ ہے۔