سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِي كَسْبِ الْمُعَلِّمِ باب: معلم (مدرس) کو تعلیم کی اجرت لینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : " عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ ، فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا ، فَقُلْتُ : لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَأَسْأَلَنَّهُ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا " .
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے اصحاب صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا تو ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیتہً دی ، میں نے ( جی میں ) کہا یہ کوئی مال تو ہے نہیں ، اس سے میں فی سبیل اللہ تیر اندازی کا کام لوں گا ( پھر بھی ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ سے اس بارے میں پوچھوں گا ، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جن لوگوں کو قرآن پڑھنا لکھنا سکھا رہا تھا ، ان میں سے ایک شخص نے مجھے ہدیہ میں ایک کمان دی ہے ، اور اس کی کچھ مالیت تو ہے نہیں ، میں اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہیں پسند ہو کہ تمہیں آگ کا طوق پہنایا جائے تو اس کمان کو قبول کر لو ۱؎ ۔“