سنن ابي داود
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب فِي الْمُسَاقَاةِ باب: مساقاۃ یعنی درختوں میں بٹائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3412
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدٍ ، قَالَ : فَحَزَرَ النَّخْلَ ، وَقَالَ : فَأَنَا أَلِي جُذَاذَ النَّخْلِ ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقسم سے ( مرسلاً ) روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت خیبر فتح کیا ، پھر آگے انہوں نے زید کی حدیث ( پچھلی حدیث ) کی طرح حدیث ذکر کی اس میں ہے پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجور کا اندازہ لگایا ، ( اور جب یہودیوں نے اعتراض کیا ) تو آپ نے کہا : اچھا کھجوروں کے پھل میں خود توڑ لوں گا ، اور جو اندازہ میں نے لگایا ہے ، اس کا نصف تمہیں دے دوں گا ۔