سنن ابي داود
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب فِي الْمُخَابَرَةِ باب: مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3407
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ ، قُلْتُ : وَمَا الْمُخَابَرَةُ ؟ ، قَالَ : أَنْ تَأْخُذَ الْأَرْضَ بِنِصْفٍ ، أَوْ ثُلُثٍ ، أَوْ رُبْعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے روکا ہے ، میں نے پوچھا : مخابرہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : مخابرہ یہ ہے کہ تم زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر لو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے مراد بٹائی کی وہ صورتیں ہیں جن میں فریقین کے اندر اختلاف پیدا ہونے کے اسباب ہوتے ہیں کیوں کہ بٹائی آپ سے صحیح احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان۔`
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے روکا ہے، میں نے پوچھا: مخابرہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: مخابرہ یہ ہے کہ تم زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر لو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3407]
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے روکا ہے، میں نے پوچھا: مخابرہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: مخابرہ یہ ہے کہ تم زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر لو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3407]
فوائد ومسائل:
یعنی جب فاسد شرطیں ہوں تو منع ہے ورنہ کوئی حرج نہیں جیسے کہ تفصیل سے پیچھے بیان ہوا ہے۔
یعنی جب فاسد شرطیں ہوں تو منع ہے ورنہ کوئی حرج نہیں جیسے کہ تفصیل سے پیچھے بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3407 سے ماخوذ ہے۔