سنن ابي داود
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب فِي الْمُزَارَعَةِ باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3391
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنِ الزَّرْعِ ، وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْهَا ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی ( سکوں ) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان۔`
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی (سکوں) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3391]
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی (سکوں) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3391]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سند ا ضعیف ہے۔
تاہم ایک ہی کھیت کے مختلف حصوں کی پیداوار پر مختلف طریقوں سے حق رکھنا تنازع کا سبب بنتا ہے۔
اس میں دونوں کے حقوق صحیح طور پرمتعین بھی نہیں ہو پاتے۔
اس لئے سارا حساب کتاب ایک ہی دفعہ کرکے متعین نقدی کے عوض کرایہ پر زمین دے دینے کی صورت میں اختیارکرنے کی تلقین کی گئی۔
یہ روایت سند ا ضعیف ہے۔
تاہم ایک ہی کھیت کے مختلف حصوں کی پیداوار پر مختلف طریقوں سے حق رکھنا تنازع کا سبب بنتا ہے۔
اس میں دونوں کے حقوق صحیح طور پرمتعین بھی نہیں ہو پاتے۔
اس لئے سارا حساب کتاب ایک ہی دفعہ کرکے متعین نقدی کے عوض کرایہ پر زمین دے دینے کی صورت میں اختیارکرنے کی تلقین کی گئی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3391 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3925 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔`
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کھیتوں والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے کھیت کرائیے پر اس اناج کے بدلے دیا کرتے تھے جو کھیتوں کی مینڈھوں پر ہوتا ہے۔ تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس سلسلے میں کسی چیز کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا۔ تو آپ نے انہیں اس کے (غلہ کے) بدلے کرائے پر دینے سے منع فرما دیا اور فرمایا: ” سونے چا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3925]
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کھیتوں والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے کھیت کرائیے پر اس اناج کے بدلے دیا کرتے تھے جو کھیتوں کی مینڈھوں پر ہوتا ہے۔ تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس سلسلے میں کسی چیز کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا۔ تو آپ نے انہیں اس کے (غلہ کے) بدلے کرائے پر دینے سے منع فرما دیا اور فرمایا: ” سونے چا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3925]
اردو حاشہ: (1) مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ لیکن شواہد کی بنا پر حدیث میں مذکورہ مسئلہ صحیح ہے۔ محقق کتاب نے بھی اس کے شواہد کا ذکر کیا ہے‘ نیز سنن ابی داود کی حدیث: 3391 کی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم ابوداود ہی کی حدیث: 3395 اس سے کفایت کرتی ہے۔ لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ واللہ أعلم۔
(2) ”منع فرما دیا“ کیونکہ اس قسم کی بٹائی سے مزارع کو نقصان ہوتا ہے۔ محنت وہ کرتا مگر اچھی اچھی فصل مالک زمین لے جاتا اور ا س کو ردی فصل پر گزارا کرنا پڑتا تھا‘ لہٰذا آپ نے اس سے منع فرما دیا۔ البتہ اگر مطلقاً حصہ (مثلاً: کل پیداوار کا نصف یا تہائی وغیرہ) کی بنیاد پر بٹائی ہوتو نہ جھگڑا پیدا ہوگا نہ مزارع پر ظلم ہوگا‘ اس لیے بٹائی کی یہ صورت جائز ہے۔ ٹھیکہ بھی جائز ہے۔
(2) ”منع فرما دیا“ کیونکہ اس قسم کی بٹائی سے مزارع کو نقصان ہوتا ہے۔ محنت وہ کرتا مگر اچھی اچھی فصل مالک زمین لے جاتا اور ا س کو ردی فصل پر گزارا کرنا پڑتا تھا‘ لہٰذا آپ نے اس سے منع فرما دیا۔ البتہ اگر مطلقاً حصہ (مثلاً: کل پیداوار کا نصف یا تہائی وغیرہ) کی بنیاد پر بٹائی ہوتو نہ جھگڑا پیدا ہوگا نہ مزارع پر ظلم ہوگا‘ اس لیے بٹائی کی یہ صورت جائز ہے۔ ٹھیکہ بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3925 سے ماخوذ ہے۔