حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ` دو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں تھے ) ، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 339
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (534), والحديث السابق (338) شاھد له
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 4176، 19089) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو شخص تیمم کر کے نماز پڑھ لے پھر وقت کے اندر پانی پا لے تو کیا کرے؟`
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ دو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں تھے)، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 339]
339۔ اردو حاشیہ:
نماز اوّل وقت ہی میں پڑھنا افضل ہے خواہ تیّمم سے ہو اور پھر پانی ملنے پر دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، اگر دہرائے تو ماجور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 339 سے ماخوذ ہے۔