سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الْمُتَيَمِّمِ يَجِدُ الْمَاءَ بَعْدَ مَا يُصَلِّي فِي الْوَقْتِ باب: جو شخص تیمم کر کے نماز پڑھ لے پھر وقت کے اندر پانی پا لے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ` دو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں تھے ) ، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو شخص تیمم کر کے نماز پڑھ لے پھر وقت کے اندر پانی پا لے تو کیا کرے؟`
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ دو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں تھے)، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 339]
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ دو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں تھے)، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 339]
339۔ اردو حاشیہ:
نماز اوّل وقت ہی میں پڑھنا افضل ہے خواہ تیّمم سے ہو اور پھر پانی ملنے پر دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، اگر دہرائے تو ماجور ہے۔
نماز اوّل وقت ہی میں پڑھنا افضل ہے خواہ تیّمم سے ہو اور پھر پانی ملنے پر دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، اگر دہرائے تو ماجور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 339 سے ماخوذ ہے۔