سنن ابي داود
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب فِي الشَّرِكَةِ عَلَى غَيْرِ رَأْسِ مَالٍ باب: بغیر سرمایہ لگائے شرکت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3388
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " اشْتَرَكْتُ أَنَا ، وَعَمَّارٌ، وَسَعْدٌ فِيمَا نُصِيبُ يَوْمَ بَدْرٍ ، قَالَ : فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ ، وَلَمْ أَجِئْ أَنَا ، وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں ، عمار اور سعد تینوں نے بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصے کا معاملہ کیا تو سعد دو قیدی لے کر آئے اور میں اور عمار کچھ نہ لائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بغیر سرمایہ لگائے شرکت کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں، عمار اور سعد تینوں نے بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصے کا معاملہ کیا تو سعد دو قیدی لے کر آئے اور میں اور عمار کچھ نہ لائے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3388]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں، عمار اور سعد تینوں نے بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصے کا معاملہ کیا تو سعد دو قیدی لے کر آئے اور میں اور عمار کچھ نہ لائے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3388]
فوائد ومسائل:
دو تین یا زیادہ محنت کش افراد آپس میں یہ معاہدہ کرلیں کہ جو ہم کمائیں گے وہ ہم میں مشترک ہوگا۔
اسے شرکۃ الایمان کہتے ہیں۔
امام مالک۔
سفیان ثوری۔
اور احناف اس کے قائل ہیں۔
جبکہ امام احمد کا بھی ایک قول اس کے جواز کا ہے۔
دو تین یا زیادہ محنت کش افراد آپس میں یہ معاہدہ کرلیں کہ جو ہم کمائیں گے وہ ہم میں مشترک ہوگا۔
اسے شرکۃ الایمان کہتے ہیں۔
امام مالک۔
سفیان ثوری۔
اور احناف اس کے قائل ہیں۔
جبکہ امام احمد کا بھی ایک قول اس کے جواز کا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3388 سے ماخوذ ہے۔