حدیث نمبر: 3386
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً ، فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ ، فَرَجَعَ فَاشْتَرَى لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ ، وَجَاءَ بِدِينَارٍ ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں ، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3386
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1257), شيخ من أھل المدينة : لعله حبيب بن أبي ثابت كما في سنن ا لترمذي (1257) وھو مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3438)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 34 (1257) (ضعیف) » (اس کے ایک راوی شیخ من أہل المدینہ مبہم ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1257

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1257 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔`
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار میں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے قربانی کا ایک جانور خریدا (پھر اسے دو دینار میں بیچ دیا)، اس میں انہیں ایک دینار کا فائدہ ہوا، پھر انہوں نے اس کی جگہ ایک دینار میں دوسرا جانور خریدا، قربانی کا جانور اور ایک دینار لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ نے فرمایا: بکری کی قربانی کر دو اور دینار کو صدقہ کر دو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1257]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(مؤلف نے ضعف کی وجہ بیان کردی ہے، یعنی حبیب کا سماع حکیم بن حزام سے آپ کے نزدیک ثابت نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1257 سے ماخوذ ہے۔