حدیث نمبر: 3372
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا الزِّنَادِ ، عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ، وَمَا ذُكِرَ فِي ذَلِكَ . فَقَالَ : كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ ، قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ ، وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ ، قَالَ : الْمُبْتَاعُ قَدْ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ ، وَأَصَابَهُ قُشَامٌ ، وَأَصَابَهُ مُرَاضٌ ، عَاهَاتٌ ، يَحْتَجُّونَ بِهَا ، فَلَمَّا كَثُرَتْ خُصُومَتُهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا فَإِمَّا لَا فَلَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یونس کہتے ہیں کہ` میں نے ابوالزناد سے پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے اور جو اس بارے میں ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : عروہ بن زبیر سہل بن ابو حثمہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : لوگ پھلوں کو ان کی پختگی و بہتری معلوم ہونے سے پہلے بیچا اور خریدا کرتے تھے ، پھر جب لوگ پھل پا لیتے اور تقاضے یعنی پیسہ کی وصولی کا وقت آتا تو خریدار کہتا : پھل کو دمان ہو گیا ، قشام ہو گیا ، مراض ۱؎ ہو گیا ، یہ بیماریاں ہیں جن کے ذریعہ ( وہ قیمت کم کرانے یا قیمت نہ دینے کے لیے ) حجت بازی کرتے جب اس قسم کے جھگڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بڑھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے باہمی جھگڑوں اور اختلاف کی کثرت کی وجہ سے بطور مشورہ فرمایا : ” پھر تم ایسا نہ کرو ، جب تک پھلوں کی درستگی ظاہر نہ ہو جائے ان کی خرید و فروخت نہ کرو “ ۔

وضاحت:
۱؎: دمان، قشام اور مراض کھجور کو لگنے والی بیماریوں کے نام ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3372
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3719)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 85 (2192) تعلیقاً (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے۔`
یونس کہتے ہیں کہ میں نے ابوالزناد سے پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے اور جو اس بارے میں ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر سہل بن ابو حثمہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: لوگ پھلوں کو ان کی پختگی و بہتری معلوم ہونے سے پہلے بیچا اور خریدا کرتے تھے، پھر جب لوگ پھل پا لیتے اور تقاضے یعنی پیسہ کی وصولی کا وقت آتا تو خریدار کہتا: پھل کو دمان ہو گیا، قشام ہو گیا، مراض ۱؎ ہو گیا، یہ بیماریاں ہیں جن کے ذریعہ (وہ قیمت کم کرانے یا قیمت نہ دینے ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3372]
فوائد ومسائل:
ابتداء میں یہ ممانعت بطور مشورہ تھی۔
جس طرح اس سے پہلے والی روایات کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے، مگر بعد میں اسے حکما نافذ کردیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3372 سے ماخوذ ہے۔