حدیث نمبر: 3369
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقَسَّمَ ، وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ ، وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بِغَيْرِ حِزَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ تقسیم نہ کر دیا جائے اور کھجور کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ ہر آفت سے مامون نہ ہو جائے ، اور بغیر کمر بند کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ( کہ کہیں ستر کھل نہ جائے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3369
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مولي لقريش : مجهول كما قال المنذري (عون المعبود 260/3), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15493)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/387، 458، 472) (ضعیف الإسناد) » (اس کی سند میں مولی لقریش ایک مبہم آدمی ہے) 

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ تقسیم نہ کر دیا جائے اور کھجور کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ ہر آفت سے مامون نہ ہو جائے، اور بغیر کمر بند کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے (کہ کہیں ستر کھل نہ جائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3369]
فوائد ومسائل:
کمر بند باندھنے کی تلقین اس لئے ہے۔
کہ وہ لوگ شلوار بہت کم استعمال کرتے تھے۔
اور اگر چادر کو اچھی طرح لپیٹا نہ گیا ہو۔
تو اندیشہ رہتا ہے۔
کہ انسان کہیں عریاں نہ ہوجائے۔
یہ خدشہ ہی نماز سے توجہ ہٹانے کےلئے کافی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3369 سے ماخوذ ہے۔