سنن ابي داود
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا باب: پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3369
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقَسَّمَ ، وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ ، وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بِغَيْرِ حِزَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ تقسیم نہ کر دیا جائے اور کھجور کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ ہر آفت سے مامون نہ ہو جائے ، اور بغیر کمر بند کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ( کہ کہیں ستر کھل نہ جائے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´پھلوں کو استعمال کے قابل ہونے سے پہلے بیچنا منع ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ تقسیم نہ کر دیا جائے اور کھجور کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ ہر آفت سے مامون نہ ہو جائے، اور بغیر کمر بند کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے (کہ کہیں ستر کھل نہ جائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3369]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ تقسیم نہ کر دیا جائے اور کھجور کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ ہر آفت سے مامون نہ ہو جائے، اور بغیر کمر بند کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے (کہ کہیں ستر کھل نہ جائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3369]
فوائد ومسائل:
کمر بند باندھنے کی تلقین اس لئے ہے۔
کہ وہ لوگ شلوار بہت کم استعمال کرتے تھے۔
اور اگر چادر کو اچھی طرح لپیٹا نہ گیا ہو۔
تو اندیشہ رہتا ہے۔
کہ انسان کہیں عریاں نہ ہوجائے۔
یہ خدشہ ہی نماز سے توجہ ہٹانے کےلئے کافی ہے۔
کمر بند باندھنے کی تلقین اس لئے ہے۔
کہ وہ لوگ شلوار بہت کم استعمال کرتے تھے۔
اور اگر چادر کو اچھی طرح لپیٹا نہ گیا ہو۔
تو اندیشہ رہتا ہے۔
کہ انسان کہیں عریاں نہ ہوجائے۔
یہ خدشہ ہی نماز سے توجہ ہٹانے کےلئے کافی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3369 سے ماخوذ ہے۔