سنن ابي داود
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب فِي ذَلِكَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ باب: ایک جاندار کو دوسرے جاندار کے بدلے نقد بیچنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 3358
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى عَبْدًا بِعَبْدَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ایک جاندار کو دوسرے جاندار کے بدلے نقد بیچنا جائز ہے۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3358]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3358]
فوائد ومسائل:
امام ابو داؤد کے طرز عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے۔
کہ ان کے نزدیک غلام اور حیوان کی حیثیت یکساں ہے، اسی لئے انہوں نے جانوروں کو بھی غلام پر قیاس کرکے اس بات کا اثبات کیا ہے کہ جانوروں کے مبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔
امام ابو داؤد کے طرز عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے۔
کہ ان کے نزدیک غلام اور حیوان کی حیثیت یکساں ہے، اسی لئے انہوں نے جانوروں کو بھی غلام پر قیاس کرکے اس بات کا اثبات کیا ہے کہ جانوروں کے مبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3358 سے ماخوذ ہے۔