سنن ابي داود
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب فِي حِلْيَةِ السَّيْفِ تُبَاعُ بِالدَّرَاهِمِ باب: تلوار کے قبضہ کو جس پر چاندی مڑھی ہوئی ہو درہم (چاندی کے سکے) سے بیچنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3353
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنِ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْأُوقِيَّةَ مِنَ الذَّهَبِ بِالدِّينَارِ ، قَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ : بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ ، إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے ( قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں ، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تلوار کے قبضہ کو جس پر چاندی مڑھی ہوئی ہو درہم (چاندی کے سکے) سے بیچنا کیسا ہے؟`
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے (قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3353]
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے (قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3353]
فوائد ومسائل:
سونے کا تبادلہ سونے کے ساتھ یا چاندی کا چاندی کے ساتھ ہو تو وزن برابر برابر اور معاملہ نقد ہونا ضروری ہے۔
ورنہ سود ہوگا۔
سونا کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ہونے کی صورت میں علیحدہ کرلیا جائے۔
مخلوط اشیاء میں سونے یا چاندی کے صحیح وزن کا تعین اس وقت تک نہیں ہوسکتا۔
جب تک ان کو الگ الگ نہ کرلیا جائے پھر سونے یا چاندی کے ساتھ لگی ہوئی ہر چیز کی الگ قیمت بھی متعین ہوجائےگی اور سود کا امکان بھی نہ رہے گا۔
سونے کا تبادلہ سونے کے ساتھ یا چاندی کا چاندی کے ساتھ ہو تو وزن برابر برابر اور معاملہ نقد ہونا ضروری ہے۔
ورنہ سود ہوگا۔
سونا کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ہونے کی صورت میں علیحدہ کرلیا جائے۔
مخلوط اشیاء میں سونے یا چاندی کے صحیح وزن کا تعین اس وقت تک نہیں ہوسکتا۔
جب تک ان کو الگ الگ نہ کرلیا جائے پھر سونے یا چاندی کے ساتھ لگی ہوئی ہر چیز کی الگ قیمت بھی متعین ہوجائےگی اور سود کا امکان بھی نہ رہے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3353 سے ماخوذ ہے۔