حدیث نمبر: 3352
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا ، فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ ، فَفَصَّلْتُهَا ، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے خیبر کی لڑائی کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جو سونے اور نگینے کا تھا میں نے سونا اور نگ الگ کئے تو اس میں مجھے سونا ( ۱۲ ) دینار سے زیادہ کا ملا ، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دونوں کو الگ الگ کئے بغیر بیچنا درست نہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3352
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1591)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11027) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1591 | سنن ترمذي: 1255

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1591 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خیبر کے دن ایک ہار بارہ (12) دینار میں خریدا، ہار میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے، میں نے ان کو الگ کیا، تو مجھے اس میں بارہ (12) دینار سے زیادہ مل گئے، تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے الگ کیے بغیر فروخت نہ کیا جائے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4076]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر کسی چیز کے ساتھ سونے کی آمیزش ہو اور اسے سونے کے عوض بیچنا ہو تو سونے کو الگ کرنا ضروری ہے، کیونکہ آپﷺ نے الگ کیے بغیر فروخت کرنے سے منع کیا ہے، اس طرح سونا الگ کر کے اس کے ہم وزن سونا لیا جائے گا، اور باقی چیز کی قیمت الگ لگائی جائے گی، اس طرح کمی و بیشی کا خطرہ نہیں رہے گا، کیونکہ اگر الگ نہ کیا جائے، محض ظن و تخمین سے کام لیا جائے تو کمی و بیشی کا امکان موجود ہے، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق وغیرہ، محدثین کا یہی نظریہ ہے، لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک، اگر الگ سونا، چیز کے ساتھ ملے ہوئے سونے سے یقینی طور پر زیادہ ہو، تو پھر جائز ہے، کیونکہ سونے سے زائد دوسری چیز کی قیمت بن جائے گا، اگر مفرد (الگ)
سونا، مرکب (ملے ہوئے)
سونا کے برابر ہو یا کم ہو پھر جائز نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے، الگ کیے بغیر، اس کا تعین کیسے ہو گا، کہ کم ہے یا برابر ہے، یا زائد ہے۔
امام مالک کے نزدیک اگر سونا، بالتبع اور ضمنی طور پر موجود ہے، اصل دوسری چیز ہے، تو پھر وہ سامان کے حکم میں ہو گا، تو پھر اس کو ہم وزن سونے سے بیچنا جائز ہے، لیکن ظاہر ہے اس موقف کی تو اس حدیث کی موجودگی میں گنجائش نہیں، اس طرح حماد بن ابی سلیمان کا موقف بالکل بے وزن ہے، کہ اس کو ہر طرح کم ہو یا مقدار سونا زائد ہو، بیچنا جائز ہے، کیونکہ یہ نظریہ حدیث کے بالکل خلاف ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4076 سے ماخوذ ہے۔