سنن ابي داود
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب فِي حِلْيَةِ السَّيْفِ تُبَاعُ بِالدَّرَاهِمِ باب: تلوار کے قبضہ کو جس پر چاندی مڑھی ہوئی ہو درہم (چاندی کے سکے) سے بیچنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَابْنُ مَنِيعٍ : فِيهَا خَرَزٌ مُعَلَّقَةٌ بِذَهَبٍ ابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ ، أَوْ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا ، قَالَ : فَرَدَّهُ حَتَّى مُيِّزَ بَيْنَهُمَا " ، وقَالَ ابْنُ عِيسَى : أَرَدْتُ التِّجَارَةَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَانَ فِي كِتَابِهِ الْحِجَارَةُ ، فَغَيَّرَهُ ، فَقَالَ التِّجَارَةُ .
´فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` خیبر کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونے اور پتھر کے نگ ( جڑے ہوئے ) تھے ابوبکر اور ابن منیع کہتے ہیں : اس میں پتھر کے دانے سونے سے آویزاں کئے گئے تھے ، ایک شخص نے اسے نو یا سات دینار دے کر خریدا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ( یہ خریداری درست نہیں ) یہاں تک کہ تم ان دونوں کو الگ الگ کر دو “ اس شخص نے کہا : میرا ارادہ پتھر کے دانے ( نگ ) لینے کا تھا ( یعنی میں نے پتھر کے دانے کے دام دئیے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، یہ خریداری درست نہیں جب تک کہ تم دونوں کو علیحدہ نہ کر دو “ یہ سن کر اس نے ہار واپس کر دیا ، یہاں تک کہ سونا نگوں سے جدا کر دیا گیا ۱؎ ۔ ابن عیسیٰ نے «أردت التجارة» کہا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ان کی کتاب میں «الحجارة» ہی تھا مگر انہوں نے اسے بدل کر «التجارة» کر دیا ۔