حدیث نمبر: 3344
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ،عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، رَفَعَهُ ، قَالَ عُثْمَانُ ، وحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، قَالَ : اشْتَرَى مِنْ عِيرٍ تَبِيعًا ، وَلَيْسَ عِنْدَهُ ثَمَنُهُ ، فَأُرْبِحَ فِيهِ ، فَبَاعَهُ ، فَتَصَدَّقَ بِالرِّبْحِ عَلَى أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَقَالَ : لَا أَشْتَرِي بَعْدَهَا شَيْئًا إِلَّا وَعِنْدِي ثَمَنُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عکرمہ سے روایت ہے انہوں نے اسے مرفوع کیا ہے` اور عثمان کی سند یوں ہے : «حدثنا وكيع ، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن شريك ، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن سماك ، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عكرمة ، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ - عن ابن عباس ، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور متن اسی کے ہم مثل ہے اس میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قافلہ سے ایک تبیع ۱؎ خریدا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی قیمت نہیں تھی ، تو آپ کو اس میں نفع دیا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا اور جو نفع ہوا اسے بنو عبدالمطلب کی بیواؤں کو صدقہ کر دیا اور فرمایا : ” آئندہ جب تک چیز کی قیمت اپنے پاس نہ ہو گی کوئی چیز نہ خریدوں گا “ ۔

وضاحت:
۱؎: تبیع خادم کو کہتے ہیں اور گائے کے اس بچے کو بھی جو پہلے سال میں ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3344
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سماك ضعيف عن عكرمة وحسن الحديث عن غيره, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121,

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان۔`
عکرمہ سے روایت ہے انہوں نے اسے مرفوع کیا ہے اور عثمان کی سند یوں ہے: «حدثنا وكيع، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن شريك، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن سماك، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عكرمة، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ - عن ابن عباس، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور متن اسی کے ہم مثل ہے اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قافلہ سے ایک تبیع ۱؎ خریدا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی قیمت نہیں تھی، تو آپ کو اس میں نفع دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا اور جو نفع ہوا اسے بنو عبدالمطلب کی بیواؤں کو صدقہ کر دیا اور فرمایا: آئندہ جب تک چیز کی قیمت اپنے پاس نہ ہو گی کوئی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3344]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم یہ حقیقت ہے کہ بعض اوقات تھوڑی دیر کا قرضہ بھی انسان کے لئے زحمت کا باعث بن جاتا ہے۔
اس لئے جہاں تک ہوسکے انسا ن اس سے بچتا رہے۔
اور اب صورت واقعہ یہ ہے کہ تاجر اپنی تجارتی حرص میں طول طویل بھاری بھاری قرضے لینے سے نہیں ہچکچاتے اور پھر بعض اوقات اس پر انہیں سود وغیرہ بھی دینا پڑتا ہے۔
جو قطعاً ناجائز اور حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3344 سے ماخوذ ہے۔