سنن ابي داود
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الدَّيْنِ باب: قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سَمْعَانَ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، ثُمَّ قَالَ : هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، ثُمَّ قَالَ : هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ؟ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكُمْ إِلَّا خَيْرًا ، إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَدَّى عَنْهُ ، حَتَّى مَا بَقِيَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمْعَانُ بْنُ مُشَنِّجٍ .
´سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا : ” کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے ؟ “ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ، پھر پوچھا : ” کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے ؟ “ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا : ” کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے ؟ “ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا : میں ہوں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ۱؎ “ ۔ سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اسے دیکھا کہ اس شخص نے اس کا قرض ادا کر دیا یہاں تک کہ کوئی اس سے اپنا قرضہ مانگنے والا نہ بچا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: ” کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ “ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: ” کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ “ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ” کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ “ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ۱؎۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3341]
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بالخصوص قرضے وغیرہ کی ادایئگی کے بغیر چھٹکا را بہت مشکل ہوگا۔
اوروارثوں پر حق ہے۔
کہ اپنے مرنے والے کا قرضہ ادا کریں۔
آپ ﷺ کی طرف سے مقروض کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا بھی یہی مقصد تھا۔
کہ میت کا قرض فورا ادا ہوجائے۔
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا: ” کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے؟ “ چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا، سنو! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مر گیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے (جنت میں جانے سے) رکا ہوا ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4689]