سنن ابي داود
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ باب: تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3338
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ ، سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ : خَالَفَكَ سُفْيَانَ ، قَالَ : دَمَغْتَنِي ، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ ، قَالَ : كُلُّ مَنْ خَالَفَ سُفْيَانَ ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورزمہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے شعبہ سے کہا : سفیان نے روایت میں آپ کی مخالفت کی ہے ، آپ نے کہا : تم نے تو میرا دماغ چاٹ لیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن معین کی یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی سفیان کی مخالفت کی تو لائق اعتماد بات سفیان کی بات ہو گی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی صحابی کا نام سوید بن قیس (جیسا کہ سفیان نے کہا ہے) زیادہ قابل اعتماد ہے بنسبت ابو صفوان بن عمیرۃ کے، لیکن اصحاب التراجم کا فیصلہ ہے کہ دونوں نام ایک ہی آدمی کے ہیں۔