حدیث نمبر: 3331
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي خَيْرَةَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، وَهَذَا لَفْظُهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا ، فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ " ، قَالَ ابْنُ عِيسَى : أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۱؎ “ ۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ «أصابه من غباره» ہے ، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا کچھ نہ کچھ اثر اس پر ظاہر ہو کر رہے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3331
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (4460) ابن ماجه (2278), الحسن البصري عنعن والجمهور علي أنه لم يسمع من أبي هريرة رضي اللّٰه عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
تخریج حدیث « سنن النسائی/البیوع 2 (4460)، سنن ابن ماجہ/التجارات 58 (2278)، مسند احمد (2/494)، (تحفة الأشراف: 9203، 12241) (ضعیف) » (اس کے راوی سعید لین الحدیث ہیں، نیز حسن بصری کا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4460 | سنن ابن ماجه: 2278

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شبہات سے بچنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۱؎۔‏‏‏‏ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ «أصابه من غباره» ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3331]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور صحیح حدیث میں ہے کہ قیامت تک ایک گروہ ایسا ضرور باقی رہے گا جو حق پر غالب اور کاربند رہے گا مذکورہ بالا روایت میں عمومی احوال معیشت کی طرف اشارہ ہے۔
جس کا اب عملی مشاہدہ ہو رہا ہے۔
کہ پوری معیشت کو سود کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہے۔
اور اس سے بچنا انتہائی عظیمت کا کام ہے۔
اور پوری طرح بچنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3331 سے ماخوذ ہے۔