حدیث نمبر: 3330
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : " وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ ، لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ عِرْضَهُ وَدِينَهُ ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے : ” ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا ، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (52) صحيح مسلم (1599)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11624) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شبہات سے بچنے کا بیان۔`
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3330]
فوائد ومسائل:

جو چیزیں بعض وجوہ سے ناجائز ہوں۔
اور بعض دوسرے وجو ہ سے ان کے حلال ہونے کا بھی امکان ہو اور معاملہ صاف اور واضح نہ ہو۔
تو اس سے بچنا چاہیے کہ کہیں حرام کا ارتکاب نہ ہوجائے۔


اگر کوئی شخص مشکوک چیز سے پرہیز نہ کرے تو اس جراءت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے۔
کہ وہ کسی نہ کسی دن صریح حرام میں جاگرتا ہے۔


محمد صالح الہاشمی امام ابو دائود سے نقل کرتے ہیں۔
کہ میں طرسوس میں بیس سال مقیم رہا اور مسند لکھی میں نے چار ہزار احادیث لکھیں۔
اور پھر غور کیا تو دیکھا کہ ان کا مدار صرف چاراحادیث پر ہے۔
پہلی ان میں سے یہی حدیث ہے۔
الحلال بين والحرام بين صحیح بخاری الایمان حدیث 52 وصحیح مسلم المساقاۃ حدیث 1599 دوسری: إِنما الأعمالُ بِالنياتِ (صحیح البخاري، بدءالوحي، حدیث: 1) تیسری (إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لا يقبل إلاطيبًا) (صحیح مسلم، الذکاة، حدیث: 1015) اور چوتھی یہ ہے۔
(من حسنِ إسلام المرء تركُه مالا يعنِيهِ) (جامع الترمذي، الزھد، حدیث: 2317)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3330 سے ماخوذ ہے۔