سنن ابي داود
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
باب مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ باب: غیر معین نذر ماننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُمْ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے` اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غیر معین نذر ماننے کا بیان۔`
اس سند سے بھی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3324]
اس سند سے بھی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3324]
فوائد ومسائل:
ایسی صورت میں اصحاب الحدیث کہتے ہیں کہا اگر اس نے نیک کام کا ارادہ کیا ہو تو اس کو نذر پوری کرنے یا کفارہ دینے میں اختیار ہے۔
اور اگر کسی غلط کام کا ارادہ تھا۔
تو کفارہ دے۔
ایسی صورت میں اصحاب الحدیث کہتے ہیں کہا اگر اس نے نیک کام کا ارادہ کیا ہو تو اس کو نذر پوری کرنے یا کفارہ دینے میں اختیار ہے۔
اور اگر کسی غلط کام کا ارادہ تھا۔
تو کفارہ دے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3324 سے ماخوذ ہے۔