سنن ابي داود
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
باب فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ باب: میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3309
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ ، قَالَ : قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ ، قَالَتْ : وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا : میں نے ایک باندی اپنی والدہ کو دی تھی ، اب وہ مر گئیں اور وہی باندی چھوڑ گئیں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ” تمہیں تمہارا اجر مل گیا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی “ اس نے کہا : وہ مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک مہینے کا روزہ تھا ، پھر عمرو ( عمرو بن عون ) کی حدیث ( نمبر ۳۳۰۸ ) کی طرح ذکر کیا ۔