حدیث نمبر: 3295
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ يَعْنِي أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا ، فَلْتَحُجَّ رَاكِبَةً ، وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بہن نے پیدل حج کرنے کے لیے جانے کی نذر مانی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا ( یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب نہ دے گا ) اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہو کر حج کرے اور قسم کا کفارہ دیدے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3295
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3441), شريك القاضي صرح بالسماع عند الحاكم (4/302 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (3046)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود ، (تحفة الأشراف: 6359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/310، 315) (ضعیف) » (اس کے راوی شریک القاضی حافظہ کے ضعیف ہیں، اور اس میں بھی کفارہ (بذریعہ صیام) کی بات منکر ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3296 | سنن ابي داود: 3297 | سنن ابي داود: 3303

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3303 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´معصیت کی نذر نہ پوری کرنے پر کفارہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی اور پیدل جانے کی طاقت نہیں رکھتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے) کہا: اللہ تعالیٰ کو تمہاری بہن کے پیدل جانے کی پرواہ نہیں، (تم اپنی بہن سے کہو کہ) وہ سوار ہو جائیں اور (نذر کے کفارہ کے طور پر) ایک اونٹ کی قربانی دے دیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3303]
فوائد ومسائل:
3293 نمبر حدیث میں یہ روایت گزری ہے۔
اس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے تین دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔
اور اس میں روزوں کی جگہ قربانی کرنے کا ذکر ہے۔
جس میں روزوں کا ذکر ہے وہ ضعیف ہے۔
اور یہ قربانی والی روایت صحیح ہے۔
شیخ البانی نے بھی الارواء (221تا 218/8) میں ا س کو محفوظ قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3303 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3296 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´معصیت کی نذر نہ پوری کرنے پر کفارہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل بیت اللہ جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سواری سے جانے اور ہدی ذبح کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3296]
فوائد ومسائل:
حج سے متعلق اس قسم کی نذر میں قربانی کرنا لازم کہا گیا ہے۔
اورکہا جاتا ہے کہ مستحب ہے خواہ قسم کھانے والا ضعیف اور عاجزہی ہو۔
(یہ روایت آگے بھی آرہی ہے۔
حدیث 3303)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3296 سے ماخوذ ہے۔