حدیث نمبر: 328
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ : سُئِلَ قَتَادَةُ عَنْ التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´موسیٰ بن اسماعیل کہتے ہیں : ہم سے ابان نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں` قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : مجھ سے ایک محدث نے بیان کیا ہے ، اس نے شعبی سے شعبی نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے ابزی نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہنیوں تک ( مسح کرے ) “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تیمم کا بیان۔`
موسیٰ بن اسماعیل کہتے ہیں: ہم سے ابان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے ایک محدث نے بیان کیا ہے، اس نے شعبی سے شعبی نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے ابزی نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہنیوں تک (مسح کرے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 328]
موسیٰ بن اسماعیل کہتے ہیں: ہم سے ابان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے ایک محدث نے بیان کیا ہے، اس نے شعبی سے شعبی نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے ابزی نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہنیوں تک (مسح کرے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 328]
328۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت ضعیف ہے۔ شیخ البانی نے بھی صراحت کی ہے کہ ”کہنیوں تک“ کے الفاظ منکر یعنی صحیح روایات کے خلاف ہیں۔ بہرحال مذکورہ تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ تمیّم کے بارے میں جو صحیح ترین روایت ہے، اس میں تمیم کا طریقہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ زمین پر صرف ایک ہی مرتبہ ہاتھ مارنے ہیں، پھر ان پر پھونک مار کر اور انہیں مل کر منہ پر پھیر لینا ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ شیخ البانی نے بھی صراحت کی ہے کہ ”کہنیوں تک“ کے الفاظ منکر یعنی صحیح روایات کے خلاف ہیں۔ بہرحال مذکورہ تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ تمیّم کے بارے میں جو صحیح ترین روایت ہے، اس میں تمیم کا طریقہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ زمین پر صرف ایک ہی مرتبہ ہاتھ مارنے ہیں، پھر ان پر پھونک مار کر اور انہیں مل کر منہ پر پھیر لینا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 328 سے ماخوذ ہے۔