حدیث نمبر: 3277
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَمَنْصُورٌ يَعْنِيَ ابْنَ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ ، إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفِّرْ يَمِينَكَ "قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت أَحْمَدَ يُرَخِّصُ فِيهَا الْكَفَّارَةَ قَبْلَ الْحِنْثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عبدالرحمٰن بن سمرہ ! جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کر لو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3277
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6722) صحيح مسلم (1652)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأیمان 1 (6622)، کفارات الأیمان 10 (6722)، الأحکام 5 (7146)، 6 (7147)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1652)، سنن الترمذی/الأیمان 5 (1529)، سنن النسائی/ آداب القضاة 5 (5386)، (تحفة الأشراف: 9695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/61، 62، 63)، دی/ النذور 9 (3291) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3813 | سنن نسائي: 3814 | سنن نسائي: 3815 | سنن نسائي: 3820 | سنن نسائي: 3821 | سنن نسائي: 3822

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " عبدالرحمٰن بن سمرہ! جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کر لو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔‏‏‏‏" ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3277]
فوائد ومسائل:
کسی نے قسم کھائی ہو لیکن اس امر کے خلاف میں شرعی اور اخلاقی مصلحت ہو تو بہتر کیفیت پرعمل کرنا چاہیے۔
اورقسم کاکفار ہ ادا کردیا جائے۔
اور اس میں وسعت ہے کہ پہلے کفارہ دے یا بعد میں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3277 سے ماخوذ ہے۔