سنن ابي داود
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
باب الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ باب: رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ ، فَقَالَ : إِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْقِسْمَةِ ، فَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّ الْكَعْبَةَ غَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَكَلِّمْ أَخَاكَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا يَمِينَ عَلَيْكَ ، وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ ، وَفِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ ، وَفِيمَا لَا تَمْلِكُ " .
´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` انصار کے دو بھائیوں میں میراث کی تقسیم کا معاملہ تھا ، ان میں کے ایک نے دوسرے سے میراث تقسیم کر دینے کے لیے کہا تو اس نے کہا : اگر تم نے دوبارہ تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبہ کے دروازے کے اندر ہو گا ۱؎ تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : کعبہ تمہارے مال کا محتاج نہیں ہے ، اپنی قسم کا کفارہ دے کر اپنے بھائی سے ( تقسیم میراث کی ) بات چیت کرو ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : ” قسم اور نذر اللہ کی نافرمانی اور رشتہ توڑنے میں نہیں اور نہ اس مال میں ہے جس میں تمہیں اختیار نہیں ( ایسی قسم اور نذر لغو ہے ) “ ۔