سنن ابي داود
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟
حدیث نمبر: 3265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا حَلَفَ ، يَقُولُ : لَا ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو فرماتے : «لا ، وأستغفر الله» ” نہیں ، قسم ہے میں اللہ سے بخشش اور مغفرت کا طلب گار ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو فرماتے: «لا، وأستغفر الله» " نہیں، قسم ہے میں اللہ سے بخشش اور مغفرت کا طلب گار ہوں۔" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3265]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو فرماتے: «لا، وأستغفر الله» " نہیں، قسم ہے میں اللہ سے بخشش اور مغفرت کا طلب گار ہوں۔" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3265]
فوائد ومسائل:
روایت ضیعف ہے۔
اور یہ جملہ قسم نہیں بلکہ قسم سے مشابہ ہے۔
اس کی اصل یہ ہوسکتی ہے۔
(لا واللہ استغفراللہ)(بزل المجہود)
روایت ضیعف ہے۔
اور یہ جملہ قسم نہیں بلکہ قسم سے مشابہ ہے۔
اس کی اصل یہ ہوسکتی ہے۔
(لا واللہ استغفراللہ)(بزل المجہود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3265 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2093 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اور حلف کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یوں ہوتی تھی: «لا وأستغفر الله» " ایسا نہیں ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2093]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یوں ہوتی تھی: «لا وأستغفر الله» " ایسا نہیں ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2093]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے اور یہ جملہ قسم نہیں بلکہ قسم سے مشابہ ہے اس کی اصل یہ ہو سکتی ہے: «لَاوَالله، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ» (بذل المجھود)
فائدہ: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے اور یہ جملہ قسم نہیں بلکہ قسم سے مشابہ ہے اس کی اصل یہ ہو سکتی ہے: «لَاوَالله، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ» (بذل المجھود)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2093 سے ماخوذ ہے۔