سنن ابي داود
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟
حدیث نمبر: 3264
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور دے کر قسم کھاتے تو فرماتے : «والذي نفس أبي القاسم بيده» ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور دے کر قسم کھاتے تو فرماتے: «والذي نفس أبي القاسم بيده» " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3264]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور دے کر قسم کھاتے تو فرماتے: «والذي نفس أبي القاسم بيده» " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3264]
فوائد ومسائل:
اکثر روایات میں یہ الفاظ اس طرح آتے ہیں۔
(والذي نفس محمد بيده)یعنی ابوالقاسم (کنیت) کی بجائے۔
اسم گرامی محمد (ﷺ) نام لیتے۔
اکثر روایات میں یہ الفاظ اس طرح آتے ہیں۔
(والذي نفس محمد بيده)یعنی ابوالقاسم (کنیت) کی بجائے۔
اسم گرامی محمد (ﷺ) نام لیتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3264 سے ماخوذ ہے۔