حدیث نمبر: 3264
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور دے کر قسم کھاتے تو فرماتے : «والذي نفس أبي القاسم بيده» ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3264
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عكرمة بن عمار عنعن, و أما عاصم بن شميخ فھو حسن الحديث, وثقه الإمام العجلي المعتدل و ابن حبان, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4086)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/6، 66) (ضعیف) » (اس کے راوی عکرمہ صدوق ہیں، لیکن غلطی کرتے ہیں، اور عاصم بن شمیخ کی صرف عجلی نے توثیق کی ہے، عجلی توثیق رواة میں متساہل ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور دے کر قسم کھاتے تو فرماتے: «والذي نفس أبي القاسم بيده» " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3264]
فوائد ومسائل:
اکثر روایات میں یہ الفاظ اس طرح آتے ہیں۔
(والذي نفس محمد بيده)یعنی ابوالقاسم (کنیت) کی بجائے۔
اسم گرامی محمد (ﷺ) نام لیتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3264 سے ماخوذ ہے۔