حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ تَمْرَةً عَلَى كِسْرَةٍ ، فَقَالَ : هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے روٹی کے ٹکڑے پر کھجور رکھا اور کہا یہ اس کا سالن ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ جس نے سالن نہ کھانے کی قسم کھائی ہو اگر وہ روٹی کے ساتھ کھجور کھائے تو وہ حانث شمار ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3259
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف جدًا, يحيي بن العلاء : متروك،متھم بالكذب وقال الحافظ في التقريب (7618) : ’’ رمي بالوضع‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11854)ویأتی ہذا الحدیث فی الأطعمة (3830) (ضعیف) » (اس کے راوی یحییٰ بن العلاء ضعیف ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3830

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3830 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کھجور کا بیان۔`
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھا اور فرمایا: یہ اس کا سالن ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3830]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
البتہ جن علاقوں میں کھجور باکثرت ہوتی ہے۔
وہاں لوگ اس کے ساتھ بلاتکلف روٹی کھاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ تکلفات سے کوسوں دور تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3830 سے ماخوذ ہے۔