حدیث نمبر: 3253
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الطَّائِيُّ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ قسم اللہ کے اسماء و صفات کی کھانی چاہئے، اور امانت اس کے اسماء و صفات میں سے نہیں ہے بلکہ اس کے اوامر میں سے ایک امر ہے، اس لیے امانت کی قسم کھانا جائز کام ہو گا، اور اس میں کفارہ نہ ہوگا، امام ابوحنیفہ کے نزدیک امانت کی قسم صحیح ہے، اور اس میں کفارہ واجب ہو گا، کیونکہ امین اللہ کا نام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3253
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3420)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2005)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/352) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امانت کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3253]
فوائد ومسائل:
ایمان یا امانت اللہ کی طرف سے فرض کردہ امور ہیں۔
ان کی قسم کھانے کے کوئی معنی نہیں لہذا ناجائز ہے۔
تاہم بقول امام شافعیؒ اس میں کوئی کفارہ نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3253 سے ماخوذ ہے۔