حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي الْأَعْوَرَ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، أَوْ إِلَى الذِّرَاعَيْنِ ، قَالَ شُعْبَةُ : كَانَ سَلَمَةُ ، يَقُولُ : الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ : ذَاتَ يَوْمٍ انْظُرْ مَا تَقُولَ ، فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے ، اس میں ہے` پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ۱؎ تک پھیرا ۔ شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے : دونوں ہتھیلیوں ، چہرے اور ذراعین پر پھیرا ، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا : جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو ، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا ۔
وضاحت:
۱؎: ذراع کا اطلاق بیچ کی انگلی کے سرے سے لے کر کہنی تک کے حصہ پر ہوتا ہے، یعنی مرفق اور ذراع دونوں ’’کہنی‘‘ کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تیمم کا بیان۔`
حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ۱؎ تک پھیرا۔ شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے: دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور ذراعین پر پھیرا، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا: جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 325]
حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ۱؎ تک پھیرا۔ شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے: دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور ذراعین پر پھیرا، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا: جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 325]
325. اردو حاشیہ:
اس روایت میں بھی ”کلائیوں“ کا ذکر محفوظ نہیں ہے۔ [صحيح سنن ابي داؤد]
اس روایت میں بھی ”کلائیوں“ کا ذکر محفوظ نہیں ہے۔ [صحيح سنن ابي داؤد]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 325 سے ماخوذ ہے۔