حدیث نمبر: 3248
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ ، وَلَا بِالْأَنْدَادِ ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ ، وَلَا تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ ، نہ اپنی ماؤں کی قسم کھانا ، اور نہ ان کی قسم کھانا جنہیں لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ، تم صرف اللہ کی قسم کھانا ، اور اللہ کی بھی قسم اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3248
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3418), أخرجه النسائي (3800 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الأیمان 5 (3800)، (تحفة الأشراف: 14483) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3800

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3800 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ماں کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم اپنے ماں باپ، دادا، دادی اور شریکوں ۱؎ کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھاؤ اور تم قسم نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تم سچے ہو۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3800]
اردو حاشہ: (1) لفظ "انداد" استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد وہ چیزیں ہیں جنہیں لوگ معبود سمجھتے ہیں یا معبود جیسا سلوک کرتے ہیں‘ خواہ زندہ ہوں یا مردہ‘ جاندار ہوں یا بے جان۔ چونکہ اس وقت عام بتوں کی پوچا ہوتی تھی‘ اس لیے یہ معنی کیے گئے ہیں‘ نیز یاد رہنا چاہیے کہ بت دراصل کچھ نیک لوگوں کے مجسمے تھے ورنہ شرک صرف پتھروں کی پوجا نہیں کرتے تھے۔
(2) اگرچہ ہر غیراللہ کی قسم کھانا منع ہے مگر بتوں یا معروف معبودوں کی قسم کھانا تو شرک ہے‘ اس لیے کہ یہ مشرکین سے مشابہت ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی قسم کھانا بھی اس میں داخل ہے۔
(3) جھوٹی قسم کھانا حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے جیسا کہ دوسری احادیث میں ذکر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3800 سے ماخوذ ہے۔