سنن ابي داود
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
باب فِيمَنْ حَلَفَ يَمِينًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً لأَحَدٍ باب: جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ : فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ ، فَجَحَدَنِي ، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ : احْلِفْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
´عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا “ ۔ اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں ( جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا ) فرمائی تھی ، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی ، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : ” تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا : ” تم قسم کھاؤ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کر لے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ” بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں “ ( سورۃ آل عمران : ۷۷ ) آخیر تک نازل فرمائی ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جہاں عدالت ہے اور قانون شریعت کے اعتبار سے مدعیٰ علہ پر قسم واجب ہوئی ہے، اس سے قسم اسی وقت اور وہیں لی جائے، قسم لینے کے لیے نہ کسی خاص وقت کا انتظار کیاجائے اور نہ کسی مقدس جگہ اسے لے جایا جائے۔
اس لیے کہ مکان وزمان سے اصل قسم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
امام بخاری ؒ یہی بتلانا چاہتے ہیں۔
(1)
زمان و مکان کی تخصیص سے اصل قسم میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے جہاں عدالت ہے، اسی جگہ مدعا علیہ سے قسم لے کر فیصلہ کر دیا جائے۔
قسم لینے کے لیے نہ کسی خاص وقت کا انتظار کیا جائے اور نہ کسی مقدس جگہ ہی کا انتخاب کیا جائے، البتہ جمہور اہل علم کا موقف ہے کہ قسم میں شدت پیدا کرنے کے لیے کسی خاص جگہ، مثلاً: مدینہ میں منبر نبوی، مکہ میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان اور دیگر مقامات میں مسجد کے اندر یا کسی خاص وقت جیسا کہ عصر کے بعد یا جمعے کے دن قسم لینے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔
امام شافعی ؒ فرماتے ہیں: مصحف پر قسم لینے میں کوئی خرابی نہیں۔
(فتح الباري: 350/5) (2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ ایسی پابندی درست نہیں۔
اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ حضرت اشعث بن قیس ؓ کے مقدمے میں یہودی سے تورات ہاتھ میں لے کر قسم لینے کا اہتمام کرتے یا ان کے عبادت خانے میں قسم لیتے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اسی مقام پر قسم لے کر معاملہ ختم کر دیا۔
واللہ أعلم
پس مدعیٰ علیہ کا فرض ہے کہ وہ بہت ہی سوچ سمجھ کر قسم کھائے اوردنیاوی عدالت کے فیصلے کو آخری فیصلہ نہ سمجھے کہ اللہ کی عدالت عالیہ کا معاملہ بہت سخت ہے۔
(1)
اس حدیث کی تشریح گزر چکی ہے۔
ظاہر ہے کہ اگر کوئی جھوٹی قسم اٹھا کر کسی دوسرے کا مال ہڑپ کرنا چاہے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہی ہو گی۔
اس سے بڑھ کر اور کوئی عذاب نہیں ہے۔
یہ آیت تمام جھوٹے معاملات پر فٹ ہوتی ہے۔
امام بخاری ؒ کا اس حدیث سے یہ مقصد ہے کہ راہن اور مرتہن میں جو مدعی ہو گا وہ ثبوت پیش کرے گا اور انکار کی صورت میں مدعا علیہ سے قسم لی جائے گی۔
مدعی کا یہ کام نہیں کہ وہ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے قسم اٹھائے بلکہ اس کے ذمے ثبوت فراہم کرنا ہے۔
اگر مدعا علیہ کے پاس اس کے دعوے کو جھوٹا کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے تو وہ قسم اٹھائے گا کہ مجھ پر جھوٹا دعویٰ کیا گیا ہے۔
(2)
گروی شدہ زمین میں اختلاف کی صورت یوں ہو گی کہ گروی رکھنے والا کہے: میں نے صرف زمین گروی رکھی ہے جبکہ گروی قبول کرنے والا دعویدار ہو کہ درخت بھی اس میں شامل ہیں۔
اب دعویدار کو اپنے دعوے کے لیے ثبوت دینا ہو گا یا گواہ پیش کرنے ہوں گے، بصورت دیگر گروی رکھنے والے کی بات قسم لے کر تسلیم کر لی جائے گی۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ (قیامت میں) اللہ سے ملے گا، اس وقت اللہ اس سخت غضبناک ہو گا۔“ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے بارے میں ہے۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک (مشترک) زمین تھی، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کر دیا، تو میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2996]
وضاحت:
1؎:
بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (آل عمرآن: 77)۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی چیز کے لیے قسم کھائے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو، اور اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے، تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2323]
جھوٹی قسم بڑا گناہ ہے خاص طور پر جب کہ مقصد کسی کا مال چھیننا ہو۔ 2۔
غیر مسلم کامال ناجائز طور پر حاصل کرنا بھی جرم ہے لیکن ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال ناجائز طریقے سے لے لے یہ اور بھی بڑا گناہ اور جرم ہے۔ 3۔
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بعض گناہوں گاروں پر ناراضی کا اظہار بھی فرمائے گا۔ 4۔
غضب اللہ کی صفت ہے اس پر ایمان رکھنا چاہیے۔
اور اللہ کے غضب سے بچنے کےلیے نیکیاں کرنی چاہییں اور گناہوں سے بچنا چاہیے۔
اسلام کس قدر مکمل دین ہے کہ اس نے لوگوں کے مال کی حفاظت کے بھی قوانین بنائے ہیں۔ جھوٹی قسم اٹھانا کبیرہ گناہ ہے۔ پھر جھوٹی قسم کے ذریعے لوگوں کا مال حاصل کرنا دوہرا جرم ہے، ایک جھوٹی قسم اٹھانا اور دوسرا ناجائز مال حاصل کرنا۔ افسوس کہ لوگوں کے ذہنوں میں مال کی ہوں اس قدر زیادہ ہو چکی ہے کہ ہر وقت مال اکٹھا کرنے کی حرص میں نظر آتے ہیں۔ اس کو جمع کرنے کی خاطر چوری، ڈاکہ اور دھوکا وغیرہ سے کام لیا جا رہا ہے، اور سود جیسی لعنت میں لوگ ملوث نظر آتے ہیں، حالانکہ یہ تمام ذرائع جہنم کے راستے ہیں، جن کو چھوڑنا فرض ہے، اور رزق حلال تلاش کرنا عبادت ہے۔