سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ باب: محرم مر جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ ، وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ ، فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ : كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : خَمْسُ سُنَنٍ كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، أَيْ يُكَفَّنُ الْمَيِّتُ فِي ثَوْبَيْنِ وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، أَيْ إِنَّ فِي الْغَسَلَاتِ كُلِّهَا سِدْرًا ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا ، وَكَانَ الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جسے اس کی سواری نے گردن توڑ کر ہلاک کر دیا تھا ، وہ حالت احرام میں تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اس کے دونوں کپڑوں ( تہبند اور چادر ) ہی میں دفناؤ ، اور پانی اور بیری کے پتے سے اسے غسل دو ، اس کا سر مت ڈھانپو ، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا ہے ، وہ کہتے تھے کہ اس حدیث میں پانچ سنتیں ہیں : ۱- ایک یہ کہ اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ یعنی احرام کی حالت میں جو مرے اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے گا ۔ ۲- دوسرے یہ کہ اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو یعنی ہر غسل میں بیری کا پتہ رہے ۔ ۳- تیسرے یہ کہ اس ( محرم ) کا سر نہ ڈھانپو ۔ ۴- چوتھے یہ کہ اسے کوئی خوشبو نہ لگاؤ ۔ ۵- پانچویں یہ کہ پورا کفن میت کے مال سے ہو ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کیونکہ وہ حالت احرام میں ہے اور محرم کے لیے احرام کی صرف دو ہی چادریں ہیں، برخلاف ا س کے دیگر مسلمانوں کے لیے مرد کے لیے تین چادریں اور عورت کے لیے پانچ کپڑے مسنون ہیں۔
(1)
سنن نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے انہی دو کپڑوں میں کفن دیا جائے جن میں اس نے احرام باندھا تھا۔
‘‘ (سنن النسائی، الجنائز: حدیث: 1905)
امام بخاری ؒ کا اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے مقصود یہ ہے کہ کفن کے لیے تین کپڑوں کا ہونا شرط نہیں، البتہ مستحب ضرور ہے، جیسا کہ جمہور کا موقف ہے۔
(2)
کفن کی تین اقسام ہیں: ٭ کفن ضرورت جو فرض ہے کہ ایک ہی چادر جو تمام جسم کے لیے ساتر ہو۔
٭ کفن کفایہ: اس کے لیے دو چادریں کافی ہیں۔
٭ کفن سنت: اس میں تین چادریں ہیں۔
اس بات پر اجماع ہے کہ کم از کم ایک چادر ضرور ہونی چاہیے جس سے میت کو ڈھانپا جا سکے۔
اس سے ثابت ہوا کہ غیر محرم میت کو خوشبو لگانی چاہیے۔
باب کامقصد یہی ہے۔
محرم کو خوشبو کے لیے اس واسطے منع فرمایا کہ وہ حالت احرام ہی میں ہے اور قیامت میں اس طرح لبیك پکارتا ہوا اٹھے گا اور ظاہر ہے کہ محرم کو حالت احرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: ’’اسے خوشبو کے قریب تک نہ کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن احرام کی حالت میں تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔
‘‘ (صحیح البخاري، جزاء الصید، حدیث: 1839)
ان روایات میں خوشبو سے ممانعت کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اٹھائے گا تو یہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔
چونکہ وہ شخص حالتِ احرام میں اٹھایا جائے گا اور احرام کی حالت میں خوشبو لگانا منع ہے، اس لیے اس کی میت کو بھی خوشبو لگانے سے روک دیا گیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ممانعت کا سبب احرام ہے۔
اگر احرام نہیں ہو گا تو ممانعت بھی نہیں ہو گی، اس لیے میت کو خوشبو لگانے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ حضرت جابر ؓ کی روایت میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میت کو خوشبو کی دھونی دو تو تین مرتبہ دو۔
‘‘ (مسند أحمد: 331/3)
حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی فوت ہو گیا تو ہم نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا اور اسے خوشبو کی دھونی دی، پھر ہم نے اسے جنازے کے لیے رکھ دیا۔
اس کے بعد ہم نے رسول اللہ ﷺ کو جنازے کی اطلاع دی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’اس کے ذمہ قرض تو نہیں؟‘‘ (المستدرك للحاکم: 58/2)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کو خوشبو لگانا مستحب امر ہے، کیونکہ فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور اس نے بھی اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، لہذا اچھی حالت میں پیش ہونا چاہیے۔
والله أعلم۔
شافعیہ اور اہلحدیث کا یہی قول ہے۔
(1)
مرنے کے بعد عبادات و اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔
‘‘ احرام بھی ایک عمل ہے جو مرنے سے ختم ہو جاتا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ نے حکمی طور پر اسے باقی رکھا ہے اور اس پر ان پابندیوں کو جاری رہنے دیا ہے جو محرم آدمی کی زندگی میں ہوتی ہیں، مثلاً: آپ نے حکم دیا کہ اس کے چہرے اور سر کو نہ ڈھانپا جائے اور اسے خوشبو وغیرہ نہ لگائی جائے۔
امام بخاری ؒ نے اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے ثابت کیا ہے کہ محرم انسان اگر مر جائے تو حکمی طور پر اس کی حالتِ احرام کو باقی رکھا جائے۔
اسے عام انسانوں کی طرح خوشبو لگانے اور سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں۔
حدیث سے یہ مسئلہ واضح طور پر ثابت ہوتا ہے۔
(2)
بعض حضرات نے حدیث میں مذکور واقعے کو خصوصیت پر محمول کیا ہے اور محرم کے لیے خوشبو لگانے اور سر ڈھانپنے کا جواز ثابت کیا ہے، لیکن خصوصیت والی بات بلادلیل ہے۔
محدثین کا اتفاق ہے کہ محرم انسان کو کفن دینے کا طریقہ وہی ہے جو حدیث میں بیان ہوا ہے۔
سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ محرم کو احرام کی دو چادروں میں کفن دو، اسے قیامت کے دن حالتِ احرام ہی میں اٹھایا جائے گا۔
(سنن النسائي، الجنائز، حدیث: 1905)
(1)
رسول اللہ ﷺ نے اس کے ورثاء کو یہ حکم نہیں دیا کہ اس کا حج مکمل کیا جائے، حالانکہ رمی جمار، حلق، قربانی اور طواف افاضہ باقی تھے۔
چونکہ اسے بقیہ احکام ادا کرنے کا موقع ہی نہیں ملا، اس لیے وہ مکلف ہی نہیں۔
اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص اول وقت میں نماز شروع کر دے لیکن دوران نماز میں مر جائے تو اس پر قضا ضروری نہیں۔
(عمدةالأحکام: 543/7) (2)
بعض متاخرین نے میدان عرفات میں مرنے والے محرم کے متعلق لکھا ہے کہ وہ واقد بن عبداللہ بن عمر تھے جو احرام کی حالت میں اونٹنی سے گر کر فوت ہوئے تھے۔
لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ واقد بن عبداللہ صحابی نہیں۔
ان کی والدہ حضرت صفیہ بنت ابی عبید ہیں جن سے حضرت عبداللہ ؓ نے اپنے والد ماجد حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں نکاح کیا تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ وقوف کے دوران اپنی اونٹنی سے گر کر شہید ہونے والے کوئی اور شخص ہیں جن کے متعلق ہمیں معلومات نہیں مل سکیں۔
(فتح الباري: 72/4)
(1)
امام بخاری ؒ نے کتاب الجنائز میں محرم کے کفن کے متعلق ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا تھا: (باب: كيف يكفن المحرم)
’’محرم کو کفن کس طرح دیا جائے؟‘‘ اب مزید وسعت کے ساتھ عنوان بندی کی ہے۔
محرم کو اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز بخشا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد بھی عمل حج کو جاری رکھا گیا ہے، حالانکہ موت کے ساتھ ہی انسان کے عمل ختم ہو جاتے ہیں جبکہ محرم قیامت کے دن بدستور "لبیک" کہتا ہوا اللہ کے حضور پیش ہو گا۔
(2)
اس کی تجہیز و تکفین بھی عام انسانوں سے ہٹ کر ہے۔
اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر اس کی احرام کی چادروں میں کفن دینا ہے۔
اسے خوشبو وغیرہ نہیں لگانی اور نہ اس کا سر ہی ڈھانپنا ہے۔
بعض روایات میں ہے کہ اس کا چہرہ بھی کھلا رکھنا ہے لیکن یہ الفاظ محدثین کے ہاں غیر محفوظ ہیں۔
الغرض محرم کے مرنے کے بعد بھی اس کا احرام باقی رکھا گیا ہے اور کفن کے وقت اس کی وہی حالت برقرار رکھی گئی ہے جو اس کی زندگی کے وقت تھی۔
واللہ أعلم
دوسری راویت میں ہے کہ اس کا منہ نہ ڈھانکو، حافظ ؒنے کہا مجھے اس شخص کا نام نہیں معلوم ہوا، اس بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ملی، اس سے بھی حضرت امام بخاری ؒ نے یہ ثابت فرمایا کہ محرم کو خوشبو لگانا منع ہے کیوں کہ آپ نے مرنے والے کو محرم گردان کر اس کے جسم پر خوشبو لگانے سے منع فرمایا۔
حدیث سے عمل حج کی اہمیت بھی ثابت ہوئی کہ ایسا شخص روز قیامت میں حاجی ہی کی شکل میں پیش ہوگا بشرطیکہ اس کا حج عنداللہ مقبول ہوا ہو اور جملہ آداب و شرائط کو سامنے رکھ کر ادا کیا گیا ہو۔
حدیث سے اونٹ کی فطری طینت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔
اپنے مالک سے اگر یہ جانور خفا ہو جائے تو موقع پانے پر اسے ہلاک کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے اگرچہ اس جانور میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں مگر اس کی کینہ پروری بھی مشہور ہے قرآن مجید میں اللہ نے اونٹ کا بھی ذکر فرمایا ہے ﴿إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ﴾ (الغاشیة: 17)
یعنی اونٹ کی طرف دیکھو وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے۔
اس کے جسم کا ہر حصہ شان قدرت کا ایک بہترین نمونہ ہے، اللہ نے اسے ریگستان کا جہاز بنایا ہے۔
جہاں اور سب گھبرا جاتے ہیں مگر یہ ریگستانوں میں خوب جھوم جھوم کر سفر طے کرتا ہے۔
(1)
اس حدیث میں وضاحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرنے والے محرم کو خوشبو لگانے اور اس کا سر ڈھانپنے سے منع فرمایا کیونکہ محرم کے لیے خوشبو استعمال کرنا اور سر ڈھانپنا جائز نہیں۔
(2)
اس حدیث سے عمل حج کی اہمیت ثابت ہوتی ہے کہ ایسا شخص اگر دوران حج میں فوت ہو گیا تو قیامت کے دن اللہ کے حضور حج کرتا ہوا، تلبیہ کہتا ہوا پیش ہو گا بشرطیکہ عقیدۂ توحید مضبوط ہو اور حج کے آداب و شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے اس فریضے کو ادا کرنے کے لیے گیا ہو۔
(3)
امام بخاری ؒ کا مقصد اس حدیث سے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ دوران حج میں مرد یا عورت کو خوشبو نہیں استعمال کرنی چاہیے۔
واللہ أعلم
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک چہرہ ڈھانپنا جائز ہے۔
کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہم سے اس کا جواز ثابت ہے اور اس حدیث میں چہرہ ڈھانپنے کی ممانعت سر کے کھلا رکھنے کی خاطر ہے۔
لیکن امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
اورامام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس روایت کی بنا پرمحرم کے لیے زندگی میں چہرہ ڈھانپنا جائز نہیں ہے۔
(1)
وَقَصَتْهُ اور اَوْقَصَتْهُ: دونوں کا معنی ہےگرا کر گردن توڑ دی اورأَقْصَعَتْهُ کا معنی ہے، اسے فوراً قتل کردیا۔
(2)
حَنُوْط: اس خوشبو کو کہتے ہیں، جو خاص طور پر میت کے لیے تیار کی جاتی ہے۔
فوائد ومسائل: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ جب محرم احرام کی حالت میں فوت ہو جائے تو اس کی حالت احرام بر قرار رہے گی۔
اس لیے اس کو احرام کے کپڑوں کا کفن دیا جائے گا اس کا سر بھی نہیں ڈھانپا جائے گا اور نہ ہی خوشبو لگائی جائے گی امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، اسحاق رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کا یہی مؤقف ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کا احرام ختم ہو جائے گا اس لیے اسے عام اموات کی طرح کفن دیا جائے گا، اس کو سلے ہوئے کپڑے پہنانا سر ڈھانپنا خوشبو لگانا جائز ہے لیکن یہ صحیح حدیث کے خلاف ہے اور محض اپنے وضعی قاعدہ کے تحت، اس حدیث کو اس آدمی کے ساتھ خاص قرار دیا گیا ہے۔
باقی رہا بیری کے پتوں سے غسل دینا تو یہ خوشبو کے لیے نہیں ہے اگربالفرض خوشبو ہو بھی توحدیث میں موت کی صورت میں اس کا حکم موجود ہے۔
وُقِصَ: سواری سے گر کر گردن کا ٹوٹ جانا۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر پڑا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا وہ محرم تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے انہی (احرام کے) دونوں کپڑوں میں کفناؤ اور اس کا سر نہ چھپاؤ، اس لیے کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 951]
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں ایک محرم کو اس کی اونٹنی نے گردن توڑ کر ہلاک کر دیا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ” اسے غسل دو اور کفن پہناؤ (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپو اور اسے خوشبو سے دور رکھو کیونکہ وہ لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3241]
حالت احرام میں موت کی بڑی فضیلت ہے۔
کہ اس کا عمل قیامت تک جاری رہے گا۔
اور اس پر قیاس ہے۔
کہ اگر کوئی طالب علم یا جہاد میں فوت ہوجائے۔
اور وہ اپنے اس عمل کوپورا کرنے کا عزم رکھتا ہو تو اسے ان شاء اللہ قیامت تک کےلئے اس کا ثواب ملتا رہے گا۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” محرم کو اس کے ان ہی دونوں کپڑوں میں غسل دو جن میں وہ احرام باندھے ہوئے تھا، اور اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے نہلاؤ، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفناؤ، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ ہی اس کا سر ڈھکو، کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام باندھے ہوئے اٹھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1905]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ احرام کی حالت میں ایک شخص کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کو پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اس کے دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو، اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3084]
فوائد و مسائل:
(1) (اوقصت)
’’گردن توڑدی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اونٹ پر سے سر کے بل گرا جس سے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
دوسری روایت میں (اعقصت)
کا لفظ ہے جس کے معنی "موڑدینا" ہیں۔
کیونکہ سر کے بل گرنے سے ہڈی بل کھا جاتی اور ٹوٹ جاتی ہے اور اس سے موت واقع ہوتی ہے۔
(2)
احرام کی حالت میں فوت ہونے والے شخص کو بھی غسل اور کفن دیکر جنازہ پڑھ کر دفن کرنا چاہیے۔
(3)
احرام کی حالت میں فوت ہونے والے کو احرام کی چادروں ہی میں دفنایا جائے۔
اور احرام کی پابندیوں کے مطابق اس کا سر نہ ڈھانپا جائے، نہ اسے خوشبو لگائی جائے۔
(4)
جو شخص نیکی کے کاموں میں مشغول ہونے کی حالت میں فوت ہوا، وہ قیامت کے دن اسی حال میں قبر سے اٹھے گا جس سے لوگوں کو اس کی نیکی کا علم ہوجائے گا۔
یہ اللہ کی طرف سے اس کی عزت افزائی ہوگی۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی سواری سے گر پڑا تو سواری نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دو، اور اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ کھلا رکھا جائے کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2714]
(2) روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ محرم فوت ہو جائے تو اس کی احرام والی حالت قائم رکھی جائے۔ اسے یا کفن کو خوشبو لگائی جائے۔ اور سر اور چہرہ ننگا رکھا جائے۔ وہ قیامت کے دن بھی احرام کی حالت میں اٹھے گا۔ مگر احناف اسے ہر محرم کے لیے درست نہیں سمجھتے کیونکہ موت سے اعمال ختم ہو جاتے ہیں، احرام کیسے باقی رہ گیا؟ لیکن یہ صریح فرمان نبوی کے مقابلے میں قیاس ہے جو بہت بری بات ہے، نیز میت کا ایمان باقی رہ سکتا ہے تو احرام کیوں نہیں؟ احناف اس حکم کو صرف اس شخص کے ساتھ خاص رکھتے ہیں کہ اس کے بارے میں خاص وحی آئی ہو گی۔ مگر یہ بات بلا دلیل ہے۔ ”ہوگا، ہوگی“ سے کوئی مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ حدیث کے آخری الفاظ: ”وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔“ بھی اس حکم کو عام کرتے ہیں کیونکہ لبیک کہنا اس شخص کے ساتھ خاص نہیں تھا۔ پھر دیگر احادیث بھی دلالت کرتی ہیں کہ کوئی شخص جس حالت میں فوت ہوگا، اسی حالت میں اٹھے گا، مثلاً شہید اور خود کشی کرنے والا وغیرہ۔
(3) اس روایت میں سر کے ساتھ چہرہ ننگا رکھنے کا بھی حکم ہے جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ احرام کی حالت میں چہرہ ننگا رکھنا مرد کے لیے ضروری ہے، مگر امام شافعی کا خیال ہے کہ چہرہ ننگا رکھنا صرف سر ننگا رکھنے کے لیے ہے ورنہ احرام میں مرد کے لیے چہرہ ننگا رکھنا ضروری نہیں۔ بہر صورت احتیاط یہی ہے کہ چہرہ بھی ننگا رکھا جائے۔ اہل ظاہر اس مسئلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں مگر میت محرم کی صورت میں چہرہ ننگا رکھنے کے قائل ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، اور وہ محرم تھا تو وہ مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے (احرام کے) دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2856]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو “، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: ” اس کا سر کفن سے باہر رہے “، فرمایا: ” اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ شعبہ (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2857]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر گیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ (راوی کو شک ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «فأقعصه» (مذکر کے صیغہ کے ساتھ) کہا یا «فأقعصته» (مونث کے صیغہ کے ساتھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس ک [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2858]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2860]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گر پڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں (احرام کے) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2861]
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی سواری سے گر کر جاں بحق ہو گیا اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسی کے دو کپڑوں میں کفن دے دو . . .“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 434]
«فِي الَّذِي سَقَطَ عَنْ رَاحِلَتِهِ» یہ ایک صحابی رسول تھے۔ حج کا احرام باندھے مقام عرفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ دوران احرام میں ہی اپنے اونٹ سے گر گئے جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وفات پا گئے۔
«بِمَاءِ وَسِدْر» بیری کے پتوں کا طریقہ استعمال تین طرح سے ہے: ① پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ بیری کے پتوں کو پانی میں ڈال کر اسے اتنا زور سے ہلائیں کہ اس کا جھاگ باہر نکل آئے۔ اس پانی سے میت کے جسم کو مل کر غسل دیا جائے۔
② دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پتوں کو پانی میں خوب ابالیں۔
③ اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ بیری کے پتوں کو جلا کر راکھ بنالی جائے اور اسے میت کے جسم پر خوب ملا جائے، پھر خالص اور صاف پانی سے میت کو اچھی طرح صاف کیا جائے۔ یہ غسل دینا ایک ہی مرتبہ ہو گا۔
«كَفّنُوهُ» تکفین (باب تفعيل) سے امر کا صیغہ ہے۔
فوائد و مسائل:
اس حدیث سے درج ذیل مسائل ثابت ہوتے ہیں: ➊ عرفات میں سواری پر جانا جائز ہے۔
➋ اونٹ کے سواری بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
➌ حالت احرام میں جو آدمی گر کر فوت ہو جائے اسے بھی پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے۔
➍ انہی احرام کے کپڑوں میں اسے دفن کیا جائے۔ نیا کفن خریدنے کی ضرورت نہیں۔ اس کا سر نہ ڈھانپا جائے اور نہ خوشبو ہی لگائی جائے۔ سر ننگا رکھنے اور خوشبو نہ لگانے کی حکمت یہ ہے کہ قیامت کے روز یہ اسی حالت «لبيك اللهم لبيك» پڑھتا ہوا اٹھے گا۔ [صحيح البخاري، جزاء الصيد، باب سنة المحرم إذا مات، حديث: 1851] بیری کے پتوں کے استعمال میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایک تو اس سے بدن صاف اور نرم ہو جاتا ہے اور دوسرا اس پر خرچ بھی نہیں آتا۔ اس دور میں یہ سب سے آسان طریقہ تھا۔ صابن وغیرہ کا استعمال غالباً نہ ہونے کے برابر تھا۔
اس حدیث میں ہے کہ جو بندہ حالت احرام میں فوت ہو جائے اس کوغسل اور کفن دفن کیسے دیا جائے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو انسان جس حالت میں فوت ہو گا، اسی حالت میں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا، اور جو احرام کی حالت میں فوت ہوا، اس کو احرام میں ہی دفنانا چاہیے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو احرام کی حالت میں فوت ہو، اس کو خوشبو نہیں لگانی چاہیے، اور احرام کی حالت میں بھی خوشبو نہیں لگانی چاہیے۔