حدیث نمبر: 3230
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ بَشِيرٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ ، فَهَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا اسْمُكَ ؟ ، قَالَ : زَحْمٌ ، قَالَ : بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا ، ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا ، وَحَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةٌ ، فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلَانِ ، فَقَالَ : يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ ، وَيْحَكَ ، أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ ، فَنَظَرَ الرَّجُلُ ، فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَلَعَهُمَا ، فَرَمَى بِهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے` غلام بشیر رضی اللہ عنہ ( جن کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا وہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ” تمہارا کیا نام ہے ؟ “ ، انہوں نے کہا : زحم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زحم نہیں بلکہ تم بشیر ہو “ کہتے ہیں : اسی اثناء میں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ کا گزر مشرکین کی قبروں پر سے ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ” یہ لوگ خیر کثیر ( دین اسلام ) سے پہلے گزر ( مر ) گئے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی قبروں پر سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ” ان لوگوں نے خیر کثیر ( بہت زیادہ بھلائی ) حاصل کی “ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو جوتے پہنے قبروں کے درمیان چل رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے جوتیوں والے ! تجھ پر افسوس ہے ، اپنی جوتیاں اتار دے “ اس آدمی نے ( نظر اٹھا کر ) دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے ہی انہیں اتار پھینکا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3230
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (2050 وسنده صحيح) وابن ماجه (1568 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الجنائز 107 (2050)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 46 (1568)، (تحفة الأشراف: 1021)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/83، 84، 224) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قبروں کے درمیان جوتا پہن کر چلنے کا بیان۔`
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام بشیر رضی اللہ عنہ (جن کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا وہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: " تمہارا کیا نام ہے؟ "، انہوں نے کہا: زحم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " زحم نہیں بلکہ تم بشیر ہو " کہتے ہیں: اسی اثناء میں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ کا گزر مشرکین کی قبروں پر سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: " یہ لوگ خیر کثیر (دین اسلام) سے پہلے گزر (مر) گئے "، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3230]
فوائد ومسائل:

بہتر ہے کہ انسان قبرستان میں چلتے ہوئے اپنے جوتے اتار لے جبکہ درج زیل حدیث انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کا جواز بھی ثابت ہے۔

مسلمانوں اور مشرکین کے قبرستان علیحدہ علیحدہ ہونے چاہیں۔

نامناسب نام کو تبدیل کرکے عمدہ نام رکھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3230 سے ماخوذ ہے۔