حدیث نمبر: 3224
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ ، كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی یزید بن حبیب سے یہی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد پر آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی ، یہ ایسی نماز تھی جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو وداع کرتے ہوئے پڑھے ( درد و سوز میں ڈوبی ہوئی ) ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: گویا یہ آخر دعاء تھی اس لئے کہ غزوہ احد ۳ ہجری میں ہوا، اور اس کے آٹھ برس بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4042)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9956) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بعد میں میت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔`
اس سند سے بھی یزید بن حبیب سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد پر آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی، یہ ایسی نماز تھی جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو وداع کرتے ہوئے پڑھے (درد و سوز میں ڈوبی ہوئی) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3224]
فوائد ومسائل:
یہاں بھی اصل عربی لفاظ(صلیٰ) ہیں۔
جس میں دونوں احتمال ہیں۔
دعا کرنے کا بھی اور نماز جنازہ پڑھنے کا بھی۔
اس لئے یہ بھی کسی ایک بات کےلئے نص نہیں۔
تاہم بعض کےنزدیک دوسرا احتمال زیادہ غالب ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3224 سے ماخوذ ہے۔