حدیث نمبر: 3223
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ يَوْمًا ، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ سے نکلے اور اہل احد پر اپنے جنازے کی نماز کی طرح نماز پڑھی ، پھر لوٹے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6426) صحيح مسلم (2296)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجنائز 72(1344)، والمناقب 25 (3596)، والمغازی 17 (4042)، 27 (4085)، والرقاق 7 (6426)، 53 (6590)، صحیح مسلم/الفضائل 9 (2296)، سنن النسائی/الجنائز 61 (1956)، (تحفة الأشراف: 9956)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/149، 153، 154) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بعد میں میت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ سے نکلے اور اہل احد پر اپنے جنازے کی نماز کی طرح نماز پڑھی، پھر لوٹے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3223]
فوائد ومسائل:
کچھ لوگوں نے اس شہید کی نماز جنازہ کی مشروعیت پر استدلال کیا ہے۔
جبکہ دوسرے اہل علم کہتے ہیں۔
کہ یہاں نماز جنازہ پڑھنی مراد نہیں۔
بلکہ جنازے جیسی دعا کرنی مراد ہے۔
(عون المعبود) اس لئے مذکورہ استدلال کےلئے یہ واضح نص نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3223 سے ماخوذ ہے۔