سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب كَرَاهِيَةِ الذَّبْحِ عِنْدَ الْقَبْرِ باب: قبر کے پاس ذبح کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : كَانُوا يَعْقِرُونَ عِنْدَ الْقَبْرِ بَقَرَةً أَوْ شَاةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں «عقر» نہیں ہے “ ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں : لوگ زمانہ جاہلیت میں قبر کے پاس جا کر گائے بکری وغیرہ ذبح کیا کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: قبرکے پاس گائے بکری وغیرہ ذبح کرنا یہی «عقر» ہے، اسلام میں اس سے ممانعت ہو گئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قبر کے پاس ذبح کرنا منع ہے۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اسلام میں «عقر» نہیں ہے۔" عبدالرزاق کہتے ہیں: لوگ زمانہ جاہلیت میں قبر کے پاس جا کر گائے بکری وغیرہ ذبح کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3222]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اسلام میں «عقر» نہیں ہے۔" عبدالرزاق کہتے ہیں: لوگ زمانہ جاہلیت میں قبر کے پاس جا کر گائے بکری وغیرہ ذبح کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3222]
فوائد ومسائل:
یہ ایک جاہلی رسم تھی کہ گویا صاحب قبر اپنی زندگی میں بڑا سخی تھا۔
تو اس کے اقارب موت کے بعد اس کی قبر کے پاس جانور ذبح کرکے چھوڑ دیتے تھے کہ جانور کھا جایئں اسلام نے اس کام سے روک دیاہے۔
اور اب کسی بھی نیت سے قبر جانور ذبح کرنا۔
چڑھاوا چڑھانا یا دیگیں پکا کر تقسیم کرنا حرام ہے۔
یہ ایک جاہلی رسم تھی کہ گویا صاحب قبر اپنی زندگی میں بڑا سخی تھا۔
تو اس کے اقارب موت کے بعد اس کی قبر کے پاس جانور ذبح کرکے چھوڑ دیتے تھے کہ جانور کھا جایئں اسلام نے اس کام سے روک دیاہے۔
اور اب کسی بھی نیت سے قبر جانور ذبح کرنا۔
چڑھاوا چڑھانا یا دیگیں پکا کر تقسیم کرنا حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3222 سے ماخوذ ہے۔