سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ باب: میت کے لیے دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَرْوَانَ، سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ ؟ قَالَ : أَمَعَ الَّذِي قُلْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : كَلَامٌ كَانَ بَيْنَهُمَا قَبْلَ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا ، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا ، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا ، جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ ، فَاغْفِرْ لَهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي اسْمِ عَلِيِّ بْنِ شَمَّاخٍ ، قَالَ فِيهِ عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاسٍ ، وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْمُوصِلِيَّ ، يُحَدِّثُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، قَالَ : مَا أَعْلَمُ أَنِّي جَلَسْتُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ مَجْلِسًا ، إِلَّا نَهَى فِيهِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، وَجَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ .
´علی بن شماخ کہتے ہیں` میں مروان کے پاس موجود تھا ، مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے نماز میں کیسی دعا پڑھتے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : کیا تم ان باتوں کے باوجود مجھ سے پوچھتے ہو جو پہلے کہہ چکے ہو ؟ مروان نے کہا : ہاں ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں میں اس سے پہلے کچھ کہا سنی ( سخت کلامی ) ہو گئی تھی ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها للإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئناك شفعاء فاغفر له» ” اے اللہ ! تو ہی اس کا رب ہے ، تو نے ہی اس کو پیدا کیا ہے ، تو نے ہی اسے اسلام کی راہ دکھائی ہے ، تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے ، تو اس کے ظاہر و باطن کو زیادہ جاننے والا ہے ، ہم اس کی سفارش کرنے آئے ہیں تو اسے بخش دے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی بن شماخ کہتے ہیں میں مروان کے پاس موجود تھا، مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے نماز میں کیسی دعا پڑھتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم ان باتوں کے باوجود مجھ سے پوچھتے ہو جو پہلے کہہ چکے ہو؟ مروان نے کہا: ہاں۔ راوی کہتے ہیں: ان دونوں میں اس سے پہلے کچھ کہا سنی (سخت کلامی) ہو گئی تھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها للإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئناك شفعاء فاغفر له» ” اے اللہ! تو ہی اس کا رب ہے، تو ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3200]
یہ روایت حسن درجہ کی ہے۔
اس لئے جنازے کی دیگر دعائوں کے ساتھ ساتھ اس کا پڑھنا بھی جائز ہے۔