سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَتْهُ الْحُدُودُ باب: جو شخص شرعی حد میں قتل کیا جائے اس کی نماز جنازہ۔
حدیث نمبر: 3186
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يُصَلِّ عَلَى مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھی اور نہ ہی اوروں کو ان کی نماز پڑھنے سے روکا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ماعز رضی اللہ عنہ کو رجم کیا گیا تھا، صحیح بخاری میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، نیز آپ نے غامدیہ رضی اللہ عنہا پر بھی پڑھی، ان کو بھی سنگسار کیا گیا تھا)
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو شخص شرعی حد میں قتل کیا جائے اس کی نماز جنازہ۔`
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز (جنازہ) نہیں پڑھی اور نہ ہی اوروں کو ان کی نماز پڑھنے سے روکا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3186]
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز (جنازہ) نہیں پڑھی اور نہ ہی اوروں کو ان کی نماز پڑھنے سے روکا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3186]
فوائد ومسائل:
1۔
بعض روایات کی رو سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ نہیں پڑھا مگر غامدیہ کا جنازہ پڑھا تھا۔
اور یہ دونوں ہی حد زنا میں رجم کئے گئے تھے۔
2۔
اس قسم کے مسئلے میں امام حسب مصلحت کسی بھی صورت پرعمل کرسکتا ہے۔
جبکہ عام مسلمانوں کو ان کا جنازہ پڑھنا چاہیے۔
قصہ ماعز کی روایات کی تفصیل کےلئے دیکھیں۔
ارواء الغلیل ج 7حدیث2322 جبکہ علامہ شوکانی حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ پڑھے جانے کی روایت کو راحج قرار دیتے ہیں۔
(نیل الأوطار، باب الصلوة علی من قتل في حد)
1۔
بعض روایات کی رو سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ نہیں پڑھا مگر غامدیہ کا جنازہ پڑھا تھا۔
اور یہ دونوں ہی حد زنا میں رجم کئے گئے تھے۔
2۔
اس قسم کے مسئلے میں امام حسب مصلحت کسی بھی صورت پرعمل کرسکتا ہے۔
جبکہ عام مسلمانوں کو ان کا جنازہ پڑھنا چاہیے۔
قصہ ماعز کی روایات کی تفصیل کےلئے دیکھیں۔
ارواء الغلیل ج 7حدیث2322 جبکہ علامہ شوکانی حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ پڑھے جانے کی روایت کو راحج قرار دیتے ہیں۔
(نیل الأوطار، باب الصلوة علی من قتل في حد)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3186 سے ماخوذ ہے۔