سنن ابي داود
كتاب الجنائز— کتاب: جنازے کے احکام و مسائل
باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَحْيَى الْمُجَبِّرِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ ، فَقَالَ " مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُنْ خَيْرًا تَعَجَّلَ إِلَيْهِ ، وَإِنْ يَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ ، وَالْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ ، وَلَا تُتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ ضَعِيفٌ ، هُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَحْيَى الْجَابِرُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا كُوفِيٌّ ، وَأَبُو مَاجِدَةَ بَصْرِيٌّ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو مَاجِدَةَ هَذَا لَا يُعْرَفُ 10 .
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم نے اپنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : «خبب» ۱؎ سے کچھ کم ، اگر جنازہ نیک ہے تو وہ نیکی سے جلدی جا ملے گا ، اور اگر نیک نہیں ہے تو اہل جہنم کا دور ہو جانا ہی بہتر ہے ، جنازہ کی پیروی کی جائے گی ( یعنی جنازہ آگے رہے گا اور لوگ اس کے پیچھے رہیں گے ) اسے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا ، جو آگے رہے گا وہ جنازہ کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ المجبر ضعیف ہیں اور یہی یحییٰ بن عبداللہ ہیں اور یہی یحییٰ الجابر ہیں ، یہ کوفی ہیں اور ابوماجدہ بصریٰ ہیں ، نیز ابوماجدہ غیر معروف شخص ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے پیچھے چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: " ایسی چال چلے جو دلکی چال سے دھیمی ہو۔ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے جلدی قبر میں پہنچا دو گے اور اگر برا ہے تو جہنمیوں ہی کو دور ہٹایا جاتا ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس سے آگے نہیں ہونا چاہیئے، جو جنازہ کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ جانے والوں میں سے نہیں۔" [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1011]
نوٹ:
(سند میں یحییٰ الجابرلین الحدیث، اور ابوماجدمجہول ہیں)